خطبات محمود (جلد 23) — Page 483
1942ء 483 خطبات محمود میں دوسری آنکھ بھی نکلنے کے لئے تیار ہے۔ 2 رض یہ وہ قربانیاں تھیں جو خدا تعالیٰ کے لئے انہوں نے کیں اور پھر دوسال کے اندر اندر ان کی تلواروں کے نیچے ان کے دشمنوں کی گردنیں آگئیں اور وہی سردار جو رسیاں باندھ باندھ کر انہیں گلیوں میں گھسیٹا کرتے تھے ایسے ذلیل ہو گئے کہ جس کی کوئی حد ہی نہیں۔ آج لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ مسلمانوں نے ظلم کئے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ کفار نے اس سے سینکڑوں گنا زیادہ ان پر سختیاں کی تھیں۔ وہ صحابہ جو غلام کہلاتے تھے، ان کی ٹانگوں میں رسیاں باندھ باندھ کر انہیں گلیوں میں پتھروں پر گھسیٹا جاتا تھا اور انہیں اس قدر مارا اور پیٹا جاتا تھا کہ ان کا تمام جسم زخمی ہو جاتا تھا۔ اس زمانہ میں مکہ میں کچے مکان زیادہ تھے اور پکے کم تھے اور زیادہ اور جہاں کچے مکان زیادہ ہوں وہاں گلیوں میں پانی کی روروکنے کے لئے ایک خاص قسم کے پتھر رکھ دئے جاتے ہیں جنہیں پنجابی میں گھنگھر کہتے ہیں۔ قادیان میں بھی پہلے گلیوں میں اس رض قسم کے بھنگھر ہوا کرتے تھے اور یہ بھنگھر اس لئے رکھے جاتے ہیں تا کہ پانی سے مکانات کو نقصان نہ پہنچے۔ ان پتھروں پر خالی بیٹھنا بھی مشکل ہوتا ہے مگر صحابہ کو ان پر گھسیٹا جاتا تھا اور اس طرح ان کو انتہاء درجہ کی تکلیف پہنچائی جاتی تھی۔ ایک صحابی کہتے ہیں میں نے ایک دفعہ ایک دوسرے صحابی کی پیٹھ دیکھی تو مجھے ان کا چمڑا ایسا معلوم ہوا کہ گویا وہ آدمی کا چمڑا نہیں بلکہ کسی جانور کا چمڑا ہے۔ میں نے ان سے کہا کہ کیا آپ کو یہ کوئی بیماری ہے۔ وہ ہنس کر کہنے لگے یہ بیماری نہیں بلکہ ہمیں مکہ میں پتھروں پر گھسیٹا جاتا تھا جس کی وجہ سے پیٹھ کا چمڑا ایسا سخت ہو گیا۔ 10 مگر دیکھو پھر انہی غلام صحابہ کو خدا تعالیٰ نے کیسی عزت دی۔ جب انہوں نے خدا تعالیٰ کے لئے قربانیاں کیں۔ جب لوگ انہیں کہتے کہ تم شرک کرو اور وہ بلند آواز سے کہتے کہ لا صد الله سلم إلهَ إِلَّا اللهُ، جب لوگ انہیں کہتے کہ تم محمد تم محمد (صلی علی کو گالیاں دو اور وہ روہ کہتے کہ محمد صلی اللی سیم وم اللہ تعالیٰ کے سچے رسول ہیں۔ تو خدا تعالیٰ ان کی اس قربانی کو آسمان سے دیکھتا اور وہ اپنے فرشتوں سے کہتا کہ جاؤ اور دنیا میں میرے ان بندوں کی ہمیشہ کے لئے عزت قائم کر دو۔ چنانچہ پھر وہ دن آیا جب خدا نے ان کی عزت قائم کی اور مکہ کے رؤساء اور بڑے بڑے سرداروں کو ذلیل کر دیا۔