خطبات محمود (جلد 23) — Page 456
1942ء 456 خطبات محمود اصولی اختلاف پیدا ہو گیا تھا۔ اس لئے جنگ ناگزیر ہو گئی تھی مگر ان سب باتوں کے باوجود حضرت علی نے اس شخص کی بات سن کر اسے یہ جواب نہیں دیا کہ الْحَمْدُ لِله اور یہ حکم نہیں دیا کہ اسے خلعت دی جائے بلکہ فرمایا اور میں تم کو جہنم کی بشارت دیتا ہوں۔ میں نے خود آنحضرت صلی الیم کی زبان مبارک سے اپنے کانوں سے سنا ہے کہ اے طلحہ ایک دن ایک شخص تجھے مارے گا اور وہ جہنمی ہو گا۔ 2 تو دیکھو ، حضرت علی باوجود اس کے کہ لڑنے آئے تھے مگر پھر بھی اس ارادہ سے آئے کہ جس طرح بھی ہو گا طلحہ کی جان بچائیں گے۔ ان دونوں کو اگر حالات نے جنگ پر مجبور بھی کر دیا تب بھی دلوں کی رو ایک طرف ہی چل رہی تھی۔ آجکل جنگیں ہوتی ہیں ایک Trench (خندق) والے تاک لگا کر بیٹھے رہتے ہیں کہ دوسری Trench سے کوئی سر نکالے اور جو نہی ادھر سے کوئی سر نکالتا ہے، ڈز ہوتا اور اسے گولی جا لگتی ہے لیکن حضرت علی اور طلحہ و زبیر کی لڑائی میں شام کے وقت لڑائی موقوف کر کے طلحہ کے آدمی حضرت علی کے پیچھے نماز پڑھنے کے لئے آجاتے تھے۔ اسی طرح جب معاویہ سے حضرت علی کی جنگ تھی تو تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ معاویہ کے بہت سے آدمی حضرت علیؓ کے پیچھے نماز پڑھنے آجاتے تھے بلکہ بعض تو کھانا بھی دوسرے فریق کے دستر خوان پر آکر کھاتے تھے۔ یہ نہیں ہوتا تھا کہ سنتری للکارتا ہے کون آرہا ہے۔ اس نے جواب دیا۔ دوست۔ تو اس نے پوچھا کہ کیا ہے۔ آج کا پروانہ راہداری۔ اس نے کہا۔ فلاں۔ تو اس نے کہہ دیا آجاؤ اور اگر وہ دوسرے فریق کا آدمی ہوا اور اس نے پوچھا کون آ رہا ہے۔ اس نے کہا میں فلاں ہوں۔ بس یہ سنتے ہی اس نے گولی ماری اور یہ بے چارہ وہیں ختم ہو گیا بلکہ یہ ہوتا تھا کہ شام کو لڑائی ختم ہوتی تو تلوار گھر میں رکھی اور چھڑی ہاتھ میں لے کر علی کے آدمی معاویہ کے لشکر میں سیر کے لئے جارہے ہیں اور معاویہ کے علی کے لشکر میں۔ اور پھر دستر خوان بچھائے جاتے ہیں اور ایک دوسرے کے دستر خوان پر کھانا کھاتے ہیں۔ حضرت ابو ہریرہ حضرت علی کی طرف تھے مگر کھانا ہر روز معاویہ کے ہاں کھایا کرتے تھے۔ کسی نے کہا ابو ہریرہ یہ کیا؟ ہو تو علی کے طرفدار ۔ نمازیں علی کے پیچھے پڑھتے ہو اور کھانا معاویہ کے پاس جا کر کھاتے ہو۔ حضرت ابوہریرہ نے جواب دیا کہ نماز علی کے پیچھے لطف دیتی ہے اور کھانا معاویہ کا مزیدار ہوتا ہے۔ تو