خطبات محمود (جلد 23) — Page 433
1942ء 433 خطبات محمود طور پر ملتا تو اس کے معنی یہ ہوتے کہ سوائے محمد صلی علیم کے اور کسی کو اللہ تعالیٰ کی زیارت نصیب نہ ہوتی اور اگر اللہ تعالیٰ جنت کے نہایت اعلیٰ مقامات کے حصول کے بعد ہی ملتا تو اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ نبیوں کے سوا اور سب لوگ اللہ تعالیٰ کے وصال سے محروم رہ جاتے مگر محبت الہی کسی کا ٹھیکہ نہیں۔ عشق تو وہ بھی کر سکتا ہے جسے قرآن کریم کی پوری سمجھ نہیں۔ عشق وہ بھی کر سکتا ہے جس کا ظرف شریعت کے پورے مفہوم کو سمجھنے سے ابھی قاصر ہے۔ عشق وہ بھی کر سکتا ہے جو شریعت کو سمجھتا تو ہے مگر اس کا ماحول اس قسم کا نہیں کہ وہ شریعت پر پوری طرح عمل کر سکے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس شعر کو جو میں آگے بیان کروں گا بہت ہی ناپسند کیا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ اس کے کہنے والے سے مجھے بڑی ہی محبت ہے مگر اس کا یہ قول مجھ پر بڑا گراں گزرتا ہے کیونکہ گو اس کا مضمون ایک رنگ میں درست ہے مگر لہجہ گستاخانہ ہے۔ حضرت مجد دسر ہندی اپنی کسی محبت کے جوش میں کہہ گئے ہیں۔۔ پنجه در پنجه خدا دارم من چه پر وائے مصطفی دارم ارے میں نے تو خدا کا ہاتھ پکڑا ہوا ہے مجھے محمد صلی علیم کی کیا ضرورت ہے۔ در حقیقت اس کا مفہوم بالکل محدود تھا مگر شاعری نے اسے خراب کر دیا اگر وہ اسی مضمون کو نثر میں بیان کرتے تو نہایت عمدگی سے بیان کر سکتے تھے اور وہ مضمون یہی ہے کہ جہاں محبت کا تعلق ہو تا ہے، وہاں اللہ تعالیٰ ہر شخص کے لئے اپنی محبت پیش کر دیتا ہے۔ چاہے وہ کتنا ہی چھوٹا وجود کیوں نہ ہو۔ رسول کریم صلی الله لیم فرماتے ہیں آدھی رات کے بعد اللہ تعالیٰ آسمان سے اتر تا اور اپنے بندوں کی دعائیں قبول فرماتا ہے 2ے اور رم اور رمضان کے ایام میں تو وہ اور بھی قریب آجاتا ہے جیسے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے رمضان کے دنوں میں تم خوب دعائیں کیا کرو فَإِنِّي قَرِيب 2 کیونکہ میں تمہارے قریب آجایا کرتا ہوں مگر ہمارا خدا ایسا خد ا نہیں جو ایک جگہ کے لئے محدود ہو۔ آج سے تیرہ سو سال پہلے بلکہ اب تو کہنا چاہئے آج سے ساڑھے تیرہ سو سال پہلے جب رمضان کے مہینے میں راتوں کے اوقار وقات میں نصف رات کے بعد محمد صلی اللی کم اٹھتے تھے اور خدا تعالیٰ کے سامنے جا کر گریہ وزاری اور محبت کا اظہار کرتے تھے تو اللہ تعالی عرش سے اتر کر