خطبات محمود (جلد 23) — Page 431
1942ء 431 33 خطبات محمود مسلمانوں میں جمعۃ الوداع کا غلط اور سخت نقصان رساں خیال (فرمودہ 9 اکتوبر 1942ء) تشہد ، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔ رمضان آیا اور اب اس سال کے لئے جا رہا ہے۔ دنیا میں محبت کا تقاضا یہ ہوا کرتا ہے کہ جب کسی کی محبوب ہستی کچھ دیر تک جدا رہنے کے بعد اس کے ملنے کے لئے آتی ہے تو دونوں طرف سے آپس کی ملاقات کے لئے بے تابی پائی جاتی ہے۔ اسی وجہ سے مثلاً اگر کوئی ریل پر آئے تو جن کو توفیق ہوتی ہے وہ سٹیشن پر جا کر ملنے کی کوشش کرتے ہیں اور اگر اس قسم کا موقع بہم نہیں پہنچتا تو وہ گھر میں ہی بے تابی اور اضطراب کے ساتھ اس کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں اور جن کے دلوں میں اتنی محبت نہیں ہوتی وہ اس آنے والے شخص کو کچھ عرصہ بعد جا کر مل لیتے ہیں۔ اسی طرح جب وہ شخص جس سے محبت ہوتی ہے جدا ہوتا ہے تو لوگ آخری گھڑی تک اس کے ساتھ بسر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پھر جب وہ گھر سے جاتا ہے تب بھی اس کو جدا کرنا وہ آسان کام نہیں سمجھتے بلکہ ہو سکتا ہے تو سٹیشن تک اور اگر تانگہ یا موٹر کے ذریعہ جائے تو تانگوں اور موٹروں کے اڈے تک اس کے ساتھ جاتے ہیں۔ پھر بعض لوگ اپنی محبت کے اظہار کے لئے یا محبت سے مجبور ہو کر سفر کا کچھ حصہ ساتھ طے کرتے اور اس طرح اپنی محبت کا اظہار کرتے ہیں۔ رمضان بھی خدا تعالیٰ کی عبادتوں میں سے ایک عبادت ہے اور رسول کریم صلی الی یوم فرماتے ہیں کہ ہر چیز کا ایک بدلہ ہوتا ہے مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے روزے کا بدلہ میں آپ ہوں ا یعنی نیکی کے مختلف کاموں کے بدلہ میں کسی کو کچھ چیز ملتی ہے اور کسی کو کچھ ، کوئی کام