خطبات محمود (جلد 23) — Page 361
1942ء 361 خطبات محمود خلا ۔ علاوہ ازیں اس بات کو بھی یاد رکھو کہ موجودہ جنگ کے بعد ایک عظیم الشان خلا پیدا ہو جائے گا۔ ایسا خلا کہ اس سے پہلے ایسا خلا بہت کم پیدا ہوا ہے اور خدا تعالیٰ کا یہ قانون ہے کہ کبھی قائم نہیں رہ سکتا بلکہ وہ ضرور پر کیا جاتا ہے۔ اتا ہے۔ پس وہ عظیم الشان الشان خلا جو ایشیا اور یورپ میں پیدا ہونے والا ہے اس کو کوئی نہ کوئی قوم ضرور پر کرے گی اور در حقیقت وہی قوم دنیا کے مستقبل کی ذمہ دار قرار دی جاسکتی ہے جس قوم کو یہ توفیق مل جائے گی کہ وہ اس خلا کو بھر دے۔ اسی قوم کو یہ توفیق بھی ملے گی کہ وہ آئندہ دنیا کی راہنما بنے۔ ہم نہیں جانتے کہ ہمارے لئے خدا تعالیٰ نے کیا مستقبل مقدر کیا ہوا ہے لیکن ہم یہ ضرور جانتے ہیں کہ اس خلا کا مذہبی حصہ پر کرنا خدا تعالیٰ نے ہمارے ذمہ رکھا ہوا ہے۔ مگر کیا تم سمجھتے ہو کہ خلا دنیا میں آسانی سے پر ہو جایا کرتے ہیں۔ کوئی خلا آسانی سے پر نہیں ہو تا بلکہ وہی قوم خلا کو پر کر سکتی ہے جو خون کی ندیوں میں سے چلتی ہوئی آئے۔ آج تک دنیا میں کبھی کسی قوم نے خلا پر نہیں کیا جب تک پہلے وہ اپنی گردنوں کو کٹوانے کے لئے تیار نہیں ہوئی، جب تک وہ پہلے وطن سے بے وطن ہونے کے لئے تیار نہیں ہوئی، جب تک وہ پہلے اپنی جانوں کو قربان کرنے کے لئے تیار نہیں ہوئی، جب تک وہ پہلے اپنی عزتوں کو قربان کرنے کے لئے تیار نہیں ہوئی۔ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ دنیا کے اس خلا کو پورا کرنے کا وقت کب آئے گا مگر ہم یہ ضرور کہہ سکتے ہیں کہ اس خلا کا مذہبی حصہ پر کرنا خدا تعالیٰ نے ہمارے ذمہ رکھا ہوا ہے۔ میں نے تمہیں بارہا سمجھایا ہے کہ تم یہ مت سمجھو کہ ہم چونکہ تبلیغی جماعت ہیں اس لئے کوئی دشمن ہماری گردنوں کو نہیں کاٹے گا۔ ایسا خیال کرنا اول درجہ کی نادانی اور رنا اول درجہ کی نادانی اور حماقت ہے۔ میں نے بار بار تمہارے رے ذہنوں سے اس بات کو نکالا ہے مگر میں دیکھتا ہوں کہ جب بھی کوئی ایسا ذ کر آئے۔ ہماری جماعت کے بعض لوگ فوراً کہہ دیا کرتے ہیں کہ یہ کیسی بے وقوفی کی بات ہے۔ ہم تبلیغ کرنے والے ہیں، لڑنے والے کہاں ہیں کہ ہماری گردنیں کاٹنے کے لئے قو میں آگے بڑھیں گی۔ مگر یہ خیال بالکل غلط اور باطل ہے۔ دنیا میں ہمیشہ مبلغوں کی گردنیں کاٹی جاتی ہیں۔ مسیحیوں کی تین سو سال تک گردنیں کاٹی گئیں حالانکہ مسیحی جنگ سے جتنے متنفر تھے اتنے ہم نہیں۔ ہمیں تو اسلام وقت پر لڑائی کی اجازت دیتا ہے مگر مسیحیوں کو لڑائی کی کسی صورت میں اجازت نہیں تھی لیکن باوجود