خطبات محمود (جلد 23) — Page 304
1942ء 304 خطبات محمود لڑکوں کو بھرتی کرانے کے لئے لے آیا۔ ہم نے اسے کہا کہ ایک کو بھرتی کرا دو اور ایک کو رہنے دو مگر اس نے اصرار کیا کہ میں اس ثواب میں دونوں کو شریک کرنا چاہتا ہوں۔ تو دیکھو ایک تو یہ لوگ ہیں جنہوں نے قربانی کے یہ نمونے پیش کئے اور خدا تعالیٰ کے فضل سے ہماری جماعت میں یہ گروہ ایک خاصی تعداد میں ہے۔ ضلع گورداسپور سے ہی ایک ہزار کے قریب احمدی فوج میں جاچکے ہیں اور یہ بہت بڑی تعداد ہے۔ جنگی ملکوں میں سے بھی گورداسپور کی جماعت کی تعداد کو مد نظر رکھتے ہوئے اتنے لوگ فوج میں بھرتی نہیں ہوتے مگر خدا تعالیٰ کے فضل سے ہماری جماعت نے ضلع گورداسپور سے ہی ایک ہزار احمدی فوج میں بھیجوا دئے ہیں جو بہت بڑی خوشی کا موجب ہے لیکن اس کے مقابلہ میں مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ضلع سیالکوٹ کے دو گاؤں ایسے ہیں جہاں کے نوجوان تو فوج میں بھرتی ہونے کے لئے تیار ہو گئے مگر وہاں کے بوڑھوں، عہدیداروں اور عورتوں نے روپیٹ کر انہیں بھرتی ہونے سے روک دیا اور کہا کہ ہم تمہیں نہیں جانے دیں گے۔ سیالکوٹ کو خدا تعالیٰ نے یہ شرف عطا کیا ہے کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ابتدائی قیام گاہوں میں سے ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ سیالکوٹ ہمیں دوسرے وطن کی طرح پیارا ہے۔ 7 پس سیالکوٹ کو یہ ایک اعزاز حاصل ہے مگر اس اعزاز کی وجہ سے وہاں کے لوگوں کو وہی جرآت اور بہادری اپنے اندر پیدا کرنی چاہئے جس جرات اور بہادری کو پیدا کرنے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تشریف لائے تھے۔ آپ نے پہلے ہی فرما دیا تھا کہ میرا راستہ خدا تعالیٰ نے پھولوں کی سیج پر نہیں بنایا بلکہ کانٹوں اور تلواروں پر بنایا ہے۔ اگر کوئی میرے قدم پر چلنا نہیں چاہتا تو مجھ سے الگ ہو جائے۔ مجھے کیا معلوم ہے کہ ابھی کون کون سے ہولناک جنگل اور پر خار بادیہ در پیش ہیں جن کو میں نے طے کرنا ہے۔ پس جن لوگوں کے نازک پیر ہیں وہ کیوں میرے ساتھ مصیبت اٹھاتے ہیں۔ “ اس اعلان کے بعد جب کوئی شخص اس سلسلہ میں داخل ہوتا ہے تو وہ اس اقرار کے ساتھ داخل ہوتا ہے کہ میں نے کانٹوں پر چلنا ہے پھولوں کی سیج پر نہیں چلنا اور یا پھر نَعُوذُ بِالله