خطبات محمود (جلد 23) — Page 258
1942ء 258 خطبات محمود نے اپنے افسر کی بات کا جواب دیا ہے اس لئے پہلے جرم کی سزا میں نہیں بلکہ اس جرم کی سزا میں میں تمہیں قید خانے میں بھیجتا ہوں۔ اب بظاہر یہ ایک ہنسی کی بات ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کا نظام بھی ایک دائرہ میں ضروری ہوتا ہے۔ اگر بحث کا دروازہ کھول دیا جائے اور ہر شخص کہے کہ جب تک فلاں بات مجھے سمجھا نہ دی جائے میں کوئی کام نہیں کر سکتا تو کیا ایسی صورت میں کوئی بھی کام ہو سکتا ہے۔ بے شک سمجھ کا بھی ایک وقت ہوتا ہے مگر اس کے بعد سمجھ کا نہیں بلکہ اطاعت کا سوال ہوتا ہے اور انسان کا فرض ہوتا ہے کہ وہ بلا چون و چرا ہر حکم کی تعمیل کرے۔ ہمارا فرض ہے کہ ہم دیکھیں خدا ہے یا نہیں۔ پھر اگر ثابت ہو جائے کہ خدا ہے تو ہمارا فرض ہے کہ ہم غور کریں آیا کوئی رسول ہو سکتا ہے یا نہیں۔ پھر اگر یہ بات بھی ہماری سمجھ میں آجائے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی رسول ہو سکتا ہے تو ہمارا حق ہے کہ ہم مطالبہ کریں کہ جو شخص اس وقت رسالت کا دعویٰ کرتا ہے وہ اپنے دعویٰ میں سچا ہے یا نہیں مگر جب ہم اس کو خدا تعالیٰ کار سول تسلیم کر لیں اور مان لیں کہ اسے خدانے ہی دنیا کی اصلاح کے لئے بھیجا ہے۔ تو پھر ہمارا یہ حق نہیں رہتا کہ ہم یہ کہیں کہ ہم نماز میں سینہ پر ہاتھ کیوں باندھیں اور رکوع میں کیوں جائیں اور سجدہ کیوں کریں۔ اگر ہم ایسا کہیں تو یہ حماقت ہو گی کیونکہ جہاں تک ہم عقل سے کام لے سکتے تھے ہم نے عقل سے کام لے لیا۔ اب ہمارا کام یہی ہے کہ ہم مانیں اور عمل کریں۔ اسی طرح احمدیت میں داخل ہونے سے پہلے ہر شخص کو اجازت ہے کہ وہ کہے میں نہیں مانتا خدا کو، میں نہیں مانتار سالت کو، میں نہیں مانتا محمد صلی علی ایم کو ، میں نہیں مانتا مر زا غلام احمد صاحب کی صداقت کو ۔ لیکن اگر کوئی شخص مان لیتا ہے خدا کو، مان لیتا ہے رسول کریم صلی الم کو مان لیتا ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ، تو پھر اُسے حق نہیں رہتا کہ ان کے حکموں پر عمل کرنے سے پہلے ان کے سمجھ لینے پر اصرار کرے۔ بے شک ساتھ کے ساتھ سمجھنے کی بھی کوشش کرے مگر عمل حکم کے ساتھ ہی شروع کرنا ہو گا۔ البتہ وہ شخص کہہ سکتا ہے کہ میں مرزا غلام احمد صاحب کو تو مانتا ہوں مگر خلافت کو نہیں مانتا۔ جیسے پیغامی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو تو مانتے ہیں مگر خلافت کو نہیں مانتے۔ لیکن اگر وہ کسی وقت خلافت کو بھی تسلیم کر لیتا ہے تو پھر اس کا یہ حق بھی منسوخ ہو جائے گا اور اب اس کا یہی کام رہ