خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 216 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 216

1942ء 216 خطبات محمود الله سة موقع پر جب بار بار رسول کریم صلی الی اہم مشورہ دینے کو فرماتے فرماتے تو ایک صحابی کھڑے : کھڑے ہوئے اور پر ایسا انہوں نے کہايَا رَسُولَ الله ! کیا آپ ہم انصار سے مشورہ لینا چاہتے ہیں۔ آپ نے فرمایا ہاں۔ اس مقام سے سمندر کچھ منزل پر تھا۔ اس نے کہا یا رَسُولَ اللہ ہمیں آپ کی صداقت پر یقین ہے کہ اگر آپ کہیں کہ یہ جو سامنے سمند رہے اس میں تم سب کود جاؤ تو ہم بغیر کسی عذر کے اس میں کودنے کے لئے تیار ہیں حالانکہ سمندر میں سے کوئی شخص تیر کر نہیں گزر سکتا۔ وہ سینکڑوں میل کا سمندر تھا اور چار پانچ سو میل چوڑا تھا۔ اس میں سے ان کو کوئی چیز بچا نہیں سکتی تھی مگر انہوں نے کہا يَا رَسُولَ اللہ ! آپ اگر کہیں کہ ہم سمندر میں کود جائیں تو ہم اس میں بھی کود جائیں گے اور اس کے مقابلہ میں کسی قسم کا عذر نہیں کریں گے ۔ 3 تو رسول کریم صلی الیم کو عملی طور پر ایسے لوگ ملے تھے جنہوں نے اپنے آپ کو موت کے منہ میں ڈال دیا اور یہ آپ کا ہی کمال تھا اور نہ یہ وہی عرب تھے جو دو دو پیسوں کے لئے لڑا کرتے تھے جو خربوزوں اور تربوزوں کے لئے ایک دوسرے کو قتل کرنے کے درپے ہو جاتے تھے مگر پھر یہی عرب تھے جنہوں نے محمد صلی علیم کی آواز پر ایسی قربانی کی کہ جس کی مثال دنیا کے پردہ پر نہیں مل سکتی۔ قربانی کی مثالیں اور جگہ بھی مل جائیں گی مگر اتنی کثرت سے ساری قوم کا چند منافقوں کو چھوڑ کر قربانی کے لئے تیار ہو جانا ایسا اعلیٰ درجہ کا نمونہ ہے کہ انسان کی عمر اس پر حیرت اور استعجاب کا اظہار کرتے ہوئے گزر جاتی ہے۔ اس قسم کے لوگوں کا مل جانا فتح کو بالکل یقینی بنا دیتا ہے مگر یہ تغیر محمد صلی علی ایم کی صحبت میں ہی رہ کر صحابہ میں پیدا ہوا تھا اور صحابہ کو بھی رسول کریم صلی علی روم سے ایسی محبت تھی کہ تاریخ اس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔ ان کا نقطہ مرکزی صرف محمدصلی الی ایم کی ذات تھی چنانچہ جب کسی شخص نے حضرت عائشہ سے سوال کیا کہ رسول کریم صلی الی یوم کی کچھ صفات تو بیان کیجئے تو آپ نے جواب دیا كَانَ خُلُقُهُ الْقُرْآنُ 4 آپ کے اخلاق وہی ہیں جو قرآن میں لکھا ہے اور جو کچھ قرآن میں لکھا ہے وہ آپ کے اخلاق ہیں پھر کس قسم کی محبت تھی ان لوگوں کے دلوں میں؟ مجھے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا واقعہ ہمیشہ ہی یاد رہتا ہے کہ مدینہ میں کم سے کم اس وقت تک جبکہ یہ واقعہ ہوا اچھی چکیوں کا رواج نہیں تھا۔ لوگ