خطبات محمود (جلد 23) — Page 186
1942ء 186 خطبات محمود یہ یاد نہ تھا کہ یہ قرآن کریم کے الفاظ ہیں۔ میں سمجھتا تھا کہ قرآن کریم میں شجرہ طیبہ کی جو مثال دی گئی ہے انہی الفاظ کا ترجمہ کر کے میرے سامنے لایا گیا ہے۔ کل مجھے خیال آیا کہ دیکھوں تو سہی یہ کسی آیت قرآنی کا ٹکڑا تو نہیں اور میرے مد نظر تُؤْتِي أَكُلَهَا كُلَّ حِينِ والی آیت تھی۔ اور میں نکالنے بھی وہی لگا تھا کہ اُٹل کے لفظ کے نیچے یہی آیت مل گئی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس جنت کا مومنوں کو وعدہ دیا گیا ہے اس کی خصوصیت یہ ہے کہ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهرُ اس کے نیچے نہریں بہتی ہیں۔ اُكُلُهَا دَائِم اس کے پھل دائمی ہیں اور کبھی ختم نہیں ہوتے۔ وَظِلُّھا اور اس کا سایہ بھی دائمی ہے وہ بھی کبھی ختم نہیں ہوتا تِلْكَ عُقْبَيَ الَّذِينَ اتَّقَوا مگر یہ انجام ان کا ہے جو خدا تعالیٰ کے حضور متقیوں کی زندگی بسر کرتے ہیں وَ عُقْبَی الكَفِرِينَ النَّارُ اور جو اس سچائی کا انکار کریں ان کا انجام دوزخ ہے۔ پہلے میرا یہ خیال نہ تھا کہ یہ الفاظ کسی آیت کا ٹکڑا ہیں۔ قرآن ہمیشہ پڑھا جاتا ہے مگر بعض اوقات کوئی آیت ذہن میں نہیں ہوتی۔ پہلے میں اسے آیت نہیں سمجھتا تھا مگر بعد میں معلوم ہوا کہ آیت ہے اس میں اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ اُكُلُهَا دَائِم وَظِلُّهَا - اللہ تعالیٰ نے احمدیت کے پھلوں کو اور اس کے سایہ کو دائمی بنانے کا فیصلہ کر دیا ہے۔ اس لئے کوئی دشمن اسے کچل نہیں سکتا۔ اتنی تکرار کے ساتھ یہ الفاظ الہام ہوتے رہے کہ شاید نصف یا پون گھنٹہ مسلسل جس طرح تار سارنگی پر پڑتی ہے یہ الفاظ میرے قلب پر پڑتے رہے یہاں تک کہ میری آنکھ کھل گئی۔ میں نے آنکھ کھل گئی کے الفاظ بولے ہیں کیونکہ کشف یا الہام کی جو کیفیت ہوتی ہے وہ نرالی ہوتی ہے وہ ایک غنودگی کی حالت ہوتی ہے مگر انسان سمجھتا نہیں کہ غنودگی کی حالت ہے۔ وہ اپنے بستر کو بھی محسوس کرتا ہے اور گردو پیش کی دوسری چیزوں کو بھی۔ مگر پھر بھی ایک غنودگی اور ربودگی کی حالت ہوتی ہے۔ وہ اپنے آپ سے کھویا ہوا ہوتا ہے اور حواس باطنی کے ماتحت دیکھتا ہے۔ میں نے جب یہ حالت دیکھی تو اس وقت میں جانتا تھا کہ میری کروٹ کس طرف ہے، کس جگہ ہوں اور جس ایسی تھی جیسے جاگتے ہوئے ہوتی ہے مگر حواس ظاہری کھوئے ہوئے تھے اور باطنی حواس پیدا تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اس میں ایک طرف تو بشارت دی ہے مگر دوسری طرف یہ بتایا ہے کہ یہ انجام متقیوں کا ہوتا ہے جیسا کہ فرمایا تِلْكَ عُقْبَى الَّذِينَ اتَّقوا گو یہ حصہ الہام میں شامل نہیں