خطبات محمود (جلد 23) — Page 102
1942ء 102 خطبات محمود ساتھ مدینہ تشریف لے جائیں ۔ 3 اس کے معنی یہ ہیں کہ ان میں سے کوئی بھی زندہ واپس جانے کو تیار نہ تھا۔ دنیا میں کتنی کتنی بڑی جنگیں ہوئی ہیں جن میں لڑنے والوں کی بڑی تعریفیں ہوتی ہیں مگر وہ سب ایسی ہیں کہ کسی میں ہزار میں سے دو سو سپاہی مارے گئے ، کسی میں تین سو سپاہی مارے گئے اور باقی بچ کر آگئے مگر پھر بھی وہ سارا لشکر ہی بہادر سمجھا جاتا ہے۔ تاریخ میں ایسے مجنونانہ مقابلہ کی ایک مثال صرف یونان کی تاریخ میں ملتی ہے۔ سپارٹا کے درہ پر جتنے کے جتنے سپاہی متعین تھے۔ وہ سب کے سب مارے گئے مگر وہ ایک درہ میں تھے اور ان کے لئے دشمن کو بالکل روک لینے کا امکان موجود تھا مگر مسلمانوں کا لشکر باوجود تعداد میں دشمن سے بہت کم ہونے کے کھلے میدان میں تھا اور دشمن پر فتح پانے کا امکان بظاہر اس کے لئے کوئی نہ تھا۔ باوجود اس کے ان میں سے ہر ایک اس نیت اور اس ارادہ سے میدان جنگ میں گیا تھا کہ واپس گھر جانے کا موقع اسے نہ مل سکے گا۔ یہی وجہ تھی کہ ان لوگوں نے دنیا کا تختہ الٹ دیا۔ یہ لوگ مجنونوں کی طرح لڑتے تھے۔ تو ایمان انسان کے اندر ایسی قوت پیدا کر دیتا ہے کہ لوگ اسے پاگل سمجھنے لگتے ہیں کیونکہ جس طرح پاگل مقابلہ کے وقت یہ نہیں دیکھتا کہ میر اسر ٹوٹ جائے گا یا ہاتھ پیر ٹوٹیں گے یا کوئی اور حصہ جسم کا ٹوٹ جائے گا۔ مومن بھی دین کے مقابلہ میں اپنی جان کی پرواہ نہیں کرتا۔ گو اس کے اس جوش کا باعث جسمانی جنون نہیں ہو تا بلکہ عشق کا جنون ہوتا ہے۔ رض جنگ موتہ کا واقعہ ہے۔ رسول کریم صلی الم نے حضرت زید کو اس کا کمانڈر بنا کر بھجوایا اور فرمایا کہ اگر زید مارے جائیں تو جعفر سردار لشکر ہوں۔ اگر وہ مارے جائیں تو عبد اللہ بن رواحہ اس کے سردار ہوں اور اگر وہ شہید ہوں تو جسے مسلمان چاہیں سردار منتخب کر لیں۔ جب اول الذکر شہید ہوئے۔ حضرت جعفر نے جھٹ اپنے گھوڑے سے چھلانگ لگا دی۔ گھوڑے کو زخمی کر دیا اور جھنڈا ہاتھ میں لے لیا۔ گھوڑے کو زخمی کرنے کے یہ معنے تھے کہ میں واپس نہیں لوٹوں گا جھنڈا لے کر زور سے نعرہ لگایا آوفَيْتُ أَوْفَيْتُ اور لڑتے ہوئے شہید ہو گئے۔ اس پر عبد اللہ بن رواحہ نے جھنڈ ا ہاتھ میں لے لیا۔ لڑائی سخت ہوئی دشمن کی تعداد