خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 90 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 90

1941ء 90 خطبات محمود اخلاق کا نام ہے مگر اخلاق روحانیت کے لئے بمنزلہ جسم ضرور ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات انسان کو نظر نہیں آتی صرف اس کا حسن اس کی صفات پر غور کر کے نظر آسکتا ہے۔ پس چونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات مخفی اور وراء الوراء ہے اس لئے اس نے اپنی محبت بندوں کی محبت اور ان کے ساتھ نیک تعلقات رکھنے سے وابستہ کر دی ہے۔ جب ان میں سے ایک چیز کو تم حاصل کر لو گے تو لازماً دوسری چیز بھی تمہیں حاصل ہو جائے گی۔ گویا یہ دونوں چیزیں لازم ملزوم ہیں۔ جسے براہِ راست خدا تعالیٰ کی محبت حاصل ہو گی وہ خدا تعالیٰ کی محبت اپنے دل میں پیدا ہونے کے بعد بندوں کی محبت سے اپنے دل کو لبریز پائے گا جیسے رسول کریم صلی علیم کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دنا فتدلی 1 یعنی ہمارا یہ رسول پہلے خدا کے قریب ہوا اور پھر نیچے اترا۔ گویا خدا کی محبت محمد صلی الم کو پہلے حاصل ہوئی اور پھر اس کے ساتھ ہی بنی نوع انسان کی محبت آپ کے دل میں ایسی پیدا ہوئی کہ آپ اس جذبہ کو برداشت نہ کر سکے اور ان کی ہدایت کی طرف متوجہ ہو گئے۔ مگر کچھ انسان ایسے ہوتے ہیں جنہیں پہلے بنی نوع انسان کی محبت حاصل ہوتی ہے اور پھر وہ خدا تعالیٰ کی محبت کی طرف لوٹتے ہیں۔ گویا روحانی کمال کے حصول کے دونوں ذریعے ہیں۔ کبھی خدا سے پہلے محبت ہوتی ہے اور اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسان کے دل میں بندوں کی محبت پیدا ہو جاتی ہے اور کبھی بندوں سے پہلے محبت ہوتی ہے اور خدا سے محبت اس کے بعد پیدا ہ پیدا ہوتی ہے۔ محمد صلی علیم کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ پہلے ان کے دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت پیدا ہوئی اور پھر بنی نوع انسان کی۔ الله سة یہ محبت وہبی ہوتی ہے مگر جن کو کسب سے محبت حاصل ہوتی ہے ان کے دل میں پہلے بنی نوع انسان سے محبت پیدا ہوتی ہے اور وہ ان کے لئے ہر قسم کی قربانی کرتے چلے جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ جب ان کے تعلقات بنی نوع انسان سے ، بنی نوع انسان سے کامل ہو جاتے ہیں تو خدا تعالیٰ سے بھی ان کا تعلق پیدا ہو جاتا ہے۔ پس خدا تعالیٰ کو