خطبات محمود (جلد 22) — Page 707
1941ء 707 خطبات محمود بیٹھا رہتا تھا، کھانے کو کچھ ملتا تو کھا لیتا ورنہ بھوکا رہتا۔ اس طرح بعض دفعہ ایک وقت کا فاقہ گزرتا، بعض دفعہ دو وقت کا فاقہ گزرتا، بعض دفعہ تین وقت کا فاقہ گزرتا، بعض دفعہ چار وقت کا فاقہ گزرتا اور انتہاء یہ کہ بعض دفعہ سات سات وقت کا مجھے فاقہ ہو جاتا اور میں شدت ضعف کی وجہ سے بے ہوش ہو کر گر جاتا 3 مومن کی غیرت چونکہ سوال کو برداشت نہیں کرتی اس لئے حضرت ابو ہریرہ سوال نہیں کرتے تھے مگر جب بے ہوش ہو جاتے تو لوگ یہ سمجھتے کہ انہیں مرگی کا دورہ ہو گیا ہے اور عربوں میں رواج تھا کہ جب کسی کو مرگی کا دورہ ہو جاتا تو اس کے سر پر جوتیاں مارا کرتے تھے۔ بعد میں غلطی سے اِسے مرگی کا علاج ہی سمجھ لیا گیا۔ مرگی والے کو جوتیاں مارنے کی اصل وجہ یہ تھی کہ اہل عرب یہ سمجھتے تھے کہ مرگی سر پر والے کے سر پر شیطان چڑھ جاتا ہے اور اس کا علاج یہ ہوتا ہے کہ اس کے جوتیاں ماری جائیں تاکہ شیطان بھاگ جائے۔ جیسے پرانے زمانہ میں جب کسی کو ہسٹیریا کے دورے پڑتے تھے تو ملاں اسے ڈنڈے مارا کرتے تھے اور سمجھتے تھے کہ اس طرح جن بھاگ جائے گا۔ مگر جن تو نہیں بھاگتا تھا اس کی روح بھاگ جایا کرتی تھی۔ اسی طرح عربوں کا خیال تھا کہ جسے مرگی کا دورہ ہوتا ہے اس کے سر پر شیطان سوار ہوتا ہے اور علاج یہ ہوتا ہے کہ جو تیاں ماری جائیں تاکہ شیطان بھاگ بھاگ جائے۔ تو حضرت ابو ہریرہ نے بتایا جب میں بے ہوش ہو جاتا تو لوگ میرے سر پر جوتیاں مارنے لگ جاتے تھے اور مجھ میں اتنی ہمت اور سکت نہیں ہوتی تھی کہ میں کچھ بولوں اور ان سے کہہ سکوں کہ مجھے مرگی نہیں ہے مجھے تو بھوک کی شدت کی وجہ سے ضعف ہے۔ اب کجا تو وہ دن تھا کہ بھوک کے مارے مجھے غشیوں پر غشیاں آتی تھیں اور لوگ میرے سر پر جوتیاں مارا کرتے تھے اور کجا یہ حالت ہے کہ وہ کسریٰ جو آدھی دنیا کا مالک تھا اس کا وہ رومال جو تخت پر بیٹھتے وقت وہ استعمال کیا کرتا تھا آج ابو ہریرہ کے قبضہ میں ہے اور وہ اس میں اپنی بلغم پھینک رہا ہے۔ تو دیکھو ابو ہریرہ نے کس طرح اللہ تعالیٰ کے رسول کی باتیں سننے کے لئے