خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 62 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 62

1941ء 62 خطبات محمود مجھے ایسے واقعات بتائے اور میں نے تحقیقات کی تو وہ درست ثابت ہوئے کہ کسی نے کسی بنئے سے کسی وقت تیس چالیس روپے لئے اور تین تین سو رو روپے ادا کر دیئے پھر بھی اتنی ہی رقم کی ڈگری ان پر ہو گئی۔ انہوں نے ایک وقت روپیہ دے دیا اور بنیے نے کہہ دیا کہ بس حساب صاف ہو گیا۔ انہوں نے غفلت کی اور سمجھ لیا کہ بس حساب صاف ہو چکا لیکن کچھ عرصہ کے بعد بنیا پھر آگیا۔ اول تو انکار کر دیا کہ میں نے حساب صاف ہو جانے کا کہا ہی نہ تھا او راگر مانا بھی تو کہہ دیا مجھے غلطی لگ گئی تھی ۔ دراصل دس روپے باقی رہ گئے تھے جو اب 25 ہو گئے ہیں۔ معمولی زمیندار دس پانچ زیادہ ایک وقت نہیں دے سکتے۔ اتنے روپیہ سے بنیا چلا گیا مگر آٹھ دس سال کے بعد بڑھتے بڑھتے پھر وہ روپے سینکڑوں ہو گئے۔ غرضیکہ مشہور ہے کہ بنیے کا حساب کبھی ختم نہیں ہوتا۔ اتنے دے دے دیئے اور یہی حال خدا تعالیٰ کا ہندو مذہب پیش کرتا ہے۔ وہ کبھی حساب صاف نہیں ہونے دیتا بلکہ کچھ نہ کچھ ضرور بقایا رکھتا ہے۔ پھر بندے کو یہ بھی علم نہیں ہونے دیتا کہ جو سزا اسے مل رہی ہے وہ اس کے پہلے جنم کے کسی ابتدائی گناہ کی ہے یا آخری کی۔ وہ صرف ۔ یہ یہ کہتا ہے کہ جیل جاؤ مگر مگر یہ نہیں بتاتا کہ جرم کیا ہے نہ یہ کہ جرم کی شدت کیسی ہے، سزا کتنی ہے اور نہ یہ بتاتا ہے کہ سزا سے بچنے کا کوئی ذریعہ بھی ہے یا نہیں۔ یہ بالکل بنیوں والا طریق ہے۔ معلوم نہیں بنیوں نے پرمیشور سے یہ طریق سیکھا یا پر میشور نے بنیوں سے۔ تو ایسے خیالات نے لاکھوں انسانوں کے قلوب میں بے اطمینانی پیدا کر رکھی ہے۔ آجکل کے تعلیم یافتہ آریہ سماجی جن کے دلوں میں کچھ اطمینان معلوم ہوتا ہے حقیقت یہی ہے کہ وہ تناسخ کو نہیں مانتے۔ بے شک وہ مناظرے کرتے ہیں، بخشیں کرتے ہیں، مگر دل سے ایسے عقائد کے قائل نہیں۔ ورنہ ان کو کبھی اطمینان قلب حاصل نہ ہو سکتا یا اگر مانتے بھی ہیں تو محض فلسفیانہ مسئلہ کی حیثیت سے ورنہ ان کے عقائد وہی ہیں جو مسلمانوں کے ہیں۔ وہ محض دماغی تعیش کے لئے ان بحثوں میں پڑتے ہیں۔ ان کی عملی زندگی پر اس کا