خطبات محمود (جلد 22) — Page 615
1941ء 615 خطبات محمود اسی طرح ہر انسان کو یہ خواہش کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ مجھے بھی اور میری آئندہ نسلوں کو بھی اعلیٰ درجہ کی روحانی ترقیات عطا کرے۔ اور ہمیشہ ہمارا قدم روحانی ترقیات کے میدان میں بڑھتا چلا جائے۔ چنانچہ دیکھ لو ہمارے دلوں میں خدا تعالیٰ نے کس طرح بار بار اس خواہش کو پیدا کرنے کی تدبیر کی ہے۔ جب ہم سورہ فاتحہ پڑھتے ہیں اور اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ 1 کہتے ہیں تو اس کے کیا معنی ہوتے ہیں؟ یہی معنے ہوتے ہیں کہ جس طرح دنیا میں بعض جسمانی دیو ہیں۔ یعنی بڑے بڑے مضبوط ناگوری بیل ہیں، بڑے بڑے خوبصورت اور عمدہ گھوڑے ہیں، بڑے بڑے قد آور مرنے ہیں۔ بڑی بڑی اعلیٰ نسل کی بکریاں ہیں۔ اسی طرح انسانوں میں بعض بڑے بڑے روحانی وجود ہیں۔ جیسے نوح ہوئے، ابراہیم ہوئے، موسیٰ ہوئے، داؤڈ ہوئے، سلیمان ہوئے ، عیسی ہوئے، آنحضرت صلی اللام کی تعلیم ہوئے اور صرف انہی پر بس نہیں۔ اور ہزاروں انبیاء ہوئے۔ بلکہ بعض حدیثوں سے تو معلوم ہوتا ہے کہ ایک لاکھ میں ہزار نبی ہوئے ہیں۔ 2- یہ انسانوں میں سے بڑے بڑے قد آور روحانی وجود تھے جن کے سامنے دوسرے لوگ ایسے ہی ہوتے ہیں جیسے گٹھ مٹھیے یا باشتے ہوتے ہیں ۔ پس جب خدا تعالیٰ یہ کہتا ہے کہ تم یہ کہا کرو کہ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ تو دوسرے الفاظ میں وہ انسان سے یہ کہتا ہے کہ مجھ سے یہ دعا کرو کہ اے خدا! میری گٹھ مٹھیا اور بالشتیا روح کو بڑھا کر تو نوح جتنا لمبا قد دے دے، ابراہیم جتنا لمبا قد دے دے، موسی جتنا لمبا قد دے دے، داؤد جتنا لمبا قد دے دے، سلیمان جتنا لمبا قد دے دے، عیسیٰ جتنا لمبا قد دے دے۔ اب دیکھ لو کس طرح خدا تعالیٰ نے ہمارے دل میں بنی نوع انسان کی ترقی کے متعلق خواہش پیدا کر دی ہے اور کس طرح اس دعا میں یہ سبق سکھلایا گیا ہے کہ ہر انسان کو یہ جدو جہد کرنی چاہئے کہ اس کا روحانی قد اس کی روحانی عظمت اور اس کی روحانی بڑائی ویسی ہی ہو جائے جیسے نوٹ کی تھی، جیسے ابراہیم کی تھی، جیسے موسی اور داؤڈ اور سلیمان اور یعقوب اور یوسف اور عیسیٰ کی تھی۔ اور جیسے ان سب سے بڑھ کر ہمارے