خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 604 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 604

1941ء 604 خطبات محمود قوموں کے غلبہ کو پائداری حاصل ہوتی ہے۔ خواہ یہ غلبہ جسمانی ہو یا روحانی روحانی دنیا میں بھی کئی لوگ جب انہیں فتح ہوتی ہے۔ یہ خیال کر لیتے ہیں کہ اب شیطان بالکل مر گیا ہے۔ حالانکہ وہ مرا نہیں ہوتا بلکہ قریب ہی چھپا بیٹھا ہوتا ہے تاکہ جب بھی مومن غافل ہوں وہ ان پر حملہ کر دے۔ پس مومنوں کو چاہئے کہ وہ ہمیشہ مرابطہ سے کام لیں اور ہر وقت چوکس اور ہوشیار رہیں۔ ایسے ہی علاقوں میں سے جن پر روحانی طور پر ہمیں غلبہ حاصل ہے ایک قادیان بھی ہے۔ اور ہماری جماعت کا فرض ہے کہ وہ اس جگہ خصوصیت سے ہوشیار رہے کیونکہ جن علاقوں میں کوئی قوم غالب آ جائے ان میں وہ سست ہو جاتی ہے اور سستی اور غفلت ہی ایسی چیز ہے جو شیطان کے لئے حملہ کا موقع پیدا کر دیتی ہے۔ قادیان میں ہی لوگوں کی سرکشی نئے سے نئے رنگ میں ظاہر ہوتی رہتی ہے۔ پہلے حملے تو دشمن کی طرف سے ہوا کرتے تھے مگر اب شیطان اس رنگ میں حملہ کرتا ہے کہ لوگوں کی اولاد کو خراب کرتا ہے اور ہمیں یہ شکائتیں پہنچتی رہتی ہیں کہ فلاں کے بیٹے کو نشہ کی عادت ہو گئی ہے، فلاں کے بیٹے کو جھوٹ کی عادت ہو گئی ہے فلاں میں یہ خرابی ہے اور فلاں میں وہ دھوکا بازی ہے اور بعض احمدی جو دوسروں کے چھوٹے چھوٹے نقائص پر ان سے لڑا کرتے تھے اب اپنے رشتہ داروں کی تائید کرنے لگ جاتے ہیں۔ یہ وہی جنگ ہے جس کا خدا تعالیٰ نے اس آیت میں ذکر فرمایا ہے کہ جب کسی قوم کو فتح حاصل ہوتی ہے تو شیطان ایک نئے رنگ میں حملہ کر دیتا ہے۔ ایسی حالت میں اگر مومن مرابطہ نہ کریں اور اپنی سرحدوں کو محفوظ نہ کریں تو جو فتح نظر آ رہی ہوتی ہے وہی شکست میں تبدیل ہو جاتی ہے اور ان کی کامیابی تباہی کا پیش خیمہ بن جاتی ہے کیونکہ غلبہ کے نتیجہ میں قوموں میں غفلت اور سستی پیدا ہو جاتی ہے اور غفلت اور سستی تباہ کر دیتی ہے۔ وہی قومیں کامیاب ہوتی ہیں جو ہر وقت ہوشیار رہیں اور ایک لمحہ کے لئے بھی دشمن سے غافل نہ ہوں۔ وہ غلبہ کے وقت یہ سمجھ لیتی ہیں کہ گو اب اصْبِرُوا کا وقت نہیں گو اب