خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 59 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 59

1941ء 59 خطبات محمود ان کے ان دونوں فقروں نے مجھے ایسی حیرت میں ڈال دیا کہ میں ان کے متعلق اپنے معمولی فرض کو بھی بھول گیا۔ میں نے ان سے ہمدردی کا اظہار تو کیا اور ان سے کہا کہ میں دعا کروں گا مگر جس قدر ہمدردی ظاہر کرنی چاہئے تھی نہ کر سکا۔ کیونکہ ان دونوں فقروں کی گہرائیوں میں میرے خیالات اُلجھ گئے اور میں سوچنے لگا کہ الہامی اور غیر الہامی مذاہب میں کتنا فرق ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوم 1 یعنی اسے نہ اونگھ آتی ہے اور نہ نیند۔ مگر بعض دوسرے مذاہب والے یہ سمجھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ سوتا بھی ہے اور جاگتا بھی۔ اس لئے یہ شخص حیران ہے کہ میرا بیٹا پھانسی پا رہا ہے اور خدا معلوم نہیں کس جگہ سویا ہوا ہے۔ میں اسے امداد کے لئے بلاؤں بھی تو کیسے؟ معلوم نہیں وہ کس جگہ سو رہا ہے۔ مسلمان جانتا ہے کہ اگر مجھے کوئی سزا بھی مل رہی ہے تو اس میں میرا کوئی قصور ہو گا۔ اور اگر قصور نہیں ہے تو میرا خدا سویا ہوا نہیں بلکہ سب کچھ دیکھ رہا ہے اور وہ ضرور میری مدد کرے گا اور اس سے اس کا دل مطمئن ہوتا ہے۔ ماؤں کے بچے مر بھی جاتے ہیں اور گم بھی ہو جاتے ہیں مگر جس کا بچہ مر جائے وہ چند روز میں غم کو بھول جاتی اور کام کاج کرنے لگتی ہے مگر جس کا بچہ گم ہو گیا ہو ہو وہ ہر وقت اس کے غم میں پریشان رہتی ہے کیونکہ اسے ہر وقت یہی گھبراہٹ رہتی ہے کہ معلوم نہیں وہ کس حال میں ہو گا کسی ظالم کے پنجہ میں ہو گا۔ کتنی تکلیف دے رہا ہو گا، اسے مارتا پیٹتا ہو گا گا یا اگر کوئی لڑکی وہ اسے معلوم نہیں ہو تو وہ ہر وقت اسی خیال میں رہتی ہے معلوم نہیں کہ کن ظالموں سے اس کو پالا پڑا ہو گا جو تمام دن اس سے کام لیتے ہوں گے اور رات کو اس سے دبواتے ہوں گے۔ خواہ وہ مر ہی چکی ہو مگر چونکہ اسے علم نہیں ہوتا اس لئے وہ ہر وقت یہی خیال کرتی ہے کہ وہ تکلیف میں ہو گی اور اس لئے پریشان رہتی ہے اور ہر وقت اسے یہی غم لگا رہتا ہے۔ امید کا منقطع ہو جانا بھی ایک لحاظ سے آرام کا موجب ہو جاتا ہے۔