خطبات محمود (جلد 22) — Page 543
1941ء 543 خطبات محمود کرنے یا بُرے سے برا کام کو ترک کرنے میں خدا تعالیٰ کی مرضی اور رضا کو مد نظر رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ کیونکہ بُرے نیکی نہیں ہوتا بلکہ نیکی کی تحریک بھی بعض اوقات بدی ہوتی ہے۔ برے کام کو ترک کرنا بھی انسان کے لئے ہر حالت میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة و السلام فرمایا کرتے تھے کہ حضرت معاویہ ایک دن صبح کو دیر سے اُٹھے اور فجر کی نماز باجماعت نہ پڑھ سکے۔ اس کا انہیں اس قدر غم ہوا کہ وہ سارا دن روتے رہے۔ دوسرے دن انہوں نے نماز فجر سے قبل کشفی طور پر دیکھا کہ ایک شخص انہیں جگا رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ نماز کا وقت قریب ہے۔اٹھ کر نماز پڑھ لو۔ انہوں نے اس سے پوچھا کہ تو کون ہے۔ وہ کہنے لگا میں شیطان ہوں۔ انہوں نے کہا یہ عجیب بات ہے کہ شیطان دوسروں کو نماز پڑھنے کے لئے جگائے۔ تیرا کام تو لوگوں کو نماز سے روکنا ہے نہ کہ نماز کے لئے جگانا۔ وہ کہنے لگا اصل بات یہ ہے کہ کل میں نے تم کو سلائے رکھا تھا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ تمہاری ایک نماز باجماعت ضائع ہو گئی۔ اس پر تم اتنا روئے اتنا روئے کہ خدا تعالیٰ نے کہا میرے اس بندے کو ایک نماز باجماعت کے ضائع ہونے کا بہت ہی صدمہ ہوا ہے۔ اس لئے اس ایک نماز کی بجائے میں اسے دس باجماعت نمازیں پڑھنے کا ثواب دیتا ہوں۔ میری غرض تو تمہیں ثواب سے محروم کرنا تھی مگر تم پہلے سے بھی زیادہ ثواب لے گئے۔ اس لئے آج میں تمہیں خود جگانے آیا ہوں تا ایسا نہ ہو کہ آج بھی تم سوئے رہو اور رو رو کر خدا تعالیٰ سے زیادہ ثواب لے جاؤ۔ تو کبھی انسان کو ایک چیز نیکی نظر آتی ہے مگر وہ در حقیقت بدی ہوتی ہے اور کبھی بدی نظر آتی ہے مگر در حقیقت وہ نیکی ہوتی ہے جیسے رسول کریم صلی علیم اور صحابہ کی لڑائیاں ہیں۔ اصل چیز خدا تعالیٰ کی رضا ہے۔ اگر انسان خدا تعالیٰ کی رضا کے ماتحت کام کرے تو گو بظاہر وہ ممیت نظر آتا ہے مگر اس کا قتل کا فعل بھی بُرا نہیں رض سمجھا جا سکتا۔ چنانچہ دیکھ لو رسول کریم صلی علیم اور آپ کے صحابہ پر کتنے اعتراض کئے گئے کہ انہوں نے قتل کئے، لڑائیاں کیں اور دنیا میں نَعُوذُ بِاللهِ فتنہ و فساد