خطبات محمود (جلد 22) — Page 463
1941ء 463 خطبات محمود ان کوششوں میں جو ہم جنگ میں فتح حاصل کرنے کے لئے کر رہے ہیں روک نہیں بن سکتا بلکہ اسلام اور احمدیت کے حقوق پر بھی اگر کوئی عارضی اثر پڑے تب بھی ہماری ان کوششوں میں کوئی کمی نہیں آ سکتی کیونکہ جیسا کہ نظر آ رہا ہے اس جنگ کا ایک دائمی اثر اسلام اور احمدیت کی تائید میں یا خلاف پڑنے والا ہے لیکن اگر ایسا وقت آیا کہ اسلام اور احمدیت کے حقوق کا نقصان اس فائدہ سے زیادہ ہوا جو جنگ کے نتیجہ کے طور پر دنیا کو حاصل ہو سکتا ہے تو تم جانتے ہو کہ میں خدا تعالیٰ کے فضل سے بزدل نہیں اس وقت میں تمہیں خود کہوں گا کہ تم اپنے رویہ کو بدل لو۔ لیکن اب تک میں اسی یقین پر قائم ہوں کہ ہمیں اس جنگ میں حکومت ہوں کی مدد کرنی چاہئے اور نہ صرف اس یقین پر قائم ہوں بلکہ اتنے زور سے قائم کہ میں سمجھتا ہوں اگر ان کوششوں میں ذرہ بھی کوتاہی ہوئی تو میں بھی اور جماعت بھی خدا تعالیٰ کے حضور مجرم ٹھہریں گے۔ اس لئے ان کاموں کو کرتے چلے جاؤ اور اس وقت کا انتظار کرو جب معلوم ہو جائے کہ حکومت اس بارہ میں کیا رویہ اختیار کرتی ہے۔ اس کے بعد پھر جو مناسب قدم ہو گا وہ اٹھایا جائے گا۔ لیکن بہر حال ہم ایسا قدم ہی اٹھائیں گے جس سے ہماری جنگی کوششوں پر کوئی اثر نہ پڑے اور ایسی تدابیر اختیار کریں گے جن سے ان کوششوں پر اثر پڑے بغیر ہماری ناراضگی گورنمنٹ پر ظاہر ہو جائے۔ مثلاً الیکشنوں کا ہی سوال ہے۔ گو اب جنگ کی اسمبلیوں کی مدت بڑھا دی گئی ہے اور اس کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ انتخابات کی وجہ سے فسادات ہوتے ہیں لیکن بہر حال اگر آج نہیں تو آج سے پانچ سال کے بعد پھر انتخاب ہوں گے ممکن ہے اس عرصہ میں میں مر جاؤں مگر جماعت خدا تعالیٰ کے فضل سے اس وقت زندہ ہو گی اور اس وقت وہ کوشش کر کے ان ظالموں کو سزا دلا سکے گی جن کی نسبت ثابت ہو کہ وہ خلاف انصاف حرکات کے مرتکب ہوئے ہیں اور ان کے مقابلہ میں کھڑے ہونے والوں کی مدد کر سکتی ہے اور یاد رکھو کہ اس بارہ میں جماعت احمدیہ کو بڑی طاقت حاصل ہے۔ اگر وجہ سے