خطبات محمود (جلد 22) — Page 454
1941ء 454 خطبات محمود مرزا صاحب سے کہا کہ آپ انہیں یہ نہ کہیں کہ یہاں سے نکل جاؤ کیونکہ ممکن ہے یہ لوگ جا کر یہ رپورٹ کریں کہ ہمیں مارا گیا ہے اور بات آخر وہی مانی جائے گی جو یہ کہیں گے۔ آجکل چونکہ جنگ ہو رہی ہے اس لئے مجسٹریٹوں کا ذہن اسی طرف جاتا ہے کہ پولیس والوں کو کیا ضرورت تھی کہ وہ جھوٹ بولتے۔ پس میں نے ان سے کہا آپ یہ نہ کہیں کہ نکل جاؤ بلکہ کہیں کہ نہیں لکھ کر دیتے تو تمہاری مرضی۔ ہم یہ لکھ لیں گے کہ تم فلاں وقت تک یہاں ٹھہرے ہو اور دوبارہ ان کی ہے۔ تصویر لے لو۔ اور اس تصویر پر وقت بھی لکھ دو کہ اتنے بجے یہ تصویر لی گئی آخر شام کو اطلاع ملی کہ ایس۔ ڈی۔ او صاحب کے حکم کے مطابق جب پولیس نے رپورٹ کی تو معلوم ہوا کہ جس دفعہ کے ماتحت پولیس والوں نے کارروائی کرنی چاہی تھی اس کے ماتحت کارروائی کرنے کا پولیس کو اختیار ہی حاصل نہیں تھا۔ غرض ان کی اور بے ضابطگیوں میں ایک بڑی بے ضابطگی یہ بھی پائی گئی کہ جس دفعہ کے ماتحت انہوں نے کارروائی کرنی چاہی اس دفعہ کے ماتحت مجسٹریٹ کے حکم کے بغیر کارروائی کرنے کا انہیں حق حاصل ہی نہیں تھا۔ گویا ان کا سارا فعل ہی خلاف قانون تھا اور کسی گرفتاری کا انہیں حق ہی حاصل نہیں تھا۔سنا گیا ہے کہ اس رپورٹ پر ایس۔ڈی۔او صاحب نے انچارج ہیڈ کانسٹیبل کو بلا کر کہا کہ تم نے اس دفعہ کے ماتحت کس طرح کارروائی کی ہے جبکہ کارروائی کرنے کا تمہیں کوئی حق ہی حاصل نہیں تھا۔ انہوں نے کہا ہم یہی سمجھتے ہیں کہ ہمیں حق حاصل ہے۔ مجسٹریٹ نے کہا قانون تمہیں اس بات کا اختیار نہیں دیتا۔ البتہ مجسٹریٹ کے حکم سے تم ایسا کر سکتے ہو۔ اس کے بعد انہوں نے اسی وقت آدمی بھیجوا دیا کہ وہاں جو پولیس کھڑی ہے اسے کہہ دیا جائے کہ وہ کو ٹھی سے واپس چلے جائیں۔ چنانچہ سات بجے شام کو پولیس وہاں سے ہٹی۔ رات کو ایس۔ ڈی۔ او صاحب کا پھر رقعہ آیا کہ صبح میں مرزا خلیل احمد کے بارہ میں اطلاع دوں گا۔ دوسرے دن حسب وعدہ گیارہ بجے کے قریب ان کا رقعہ آیا کہ آپ خلیل احمد کو بے شک لے جائیں۔ ہماری طرف سے اس میں کسی قسم کی روک نہیں۔ چنانچہ اس پر