خطبات محمود (جلد 22) — Page 353
1941ء 354 خطبات محمود ناراضگی کے کیا معنی؟ س بہر حال حق یہ ہے کہ آنحضرت صلی الیم رت صلی العلیم سے زیادہ دین کے لئے کوئی غیرت ت مند نہیں ہو سکتا۔ حضرت عمرؓ ہوں یا اور کوئی۔ اور آپ کا عمل ہر جگہ بخشش، مہربانی اور نرمی کا رہا ہے اور آپ کے صحابہ کے اعمال بھی بخشش، مہربانی اور رحم کے تھے۔ انہوں نے کبھی شدید سے شدید دشمنوں سے بھی انتقام لینے کا خیال نہیں کیا۔ اور اگر کبھی صحابہ کو ایسا خیال آیا تو رسول کریم صلی الم نے اس کی اصلاح فرما دی۔ احادیث میں آتا ہے کہ اگر کبھی صحابہ جوش میں آ کر کسی دشمن پر لعنت کرتے تو آنحضرت صلی العلم ان کو منع فرما دیتے ۔8 نہ جائے جو پس مومن کو ہمیشہ نرمی کا پہلو اختیار کرنا چاہئے۔ دشمن کی یہ شرارت ہوتی ہے کہ وہ انگیخت کرتا ہے۔ کبھی کوئی گالی دے دیتا ہے کبھی کوئی طنز کر دیتا ہے۔ کبھی اعتراض ایسے رنگ میں کرتا ہے کہ جس سے اشتعال پیدا ہو۔ مگر مومن کا یہ کام ہے کہ اسے غصہ آئے تو پی جائے اور ایسی مجلس میں کبھی شخص مخالفوں کی ایسی باتیں سنتا ہے اور پھر بھی ان سے ملتا، ان سے باتیں کرتا اور ان سے تعلق رکھتا ہے۔ وہ مومن نہیں۔ وہ بے غیرت اور بے ایمان ہے۔ اور جو جوش میں آکر قانون کو اپنے ہاتھ میں لیتا ہے اسے بھی مومن نہیں کہا جا سکتا، وہ وحشی اور نافرمان ہے۔ مومن وہی ہے کہ جب کوئی ایسی بات سنتا ہے تو غیرت کی وجہ سے اسے جوش تو آتا ہے مگر وہ کہتا ہے کہ میں اپنے خدا کے حکم کے ماتحت اپنے جوش کو ٹھنڈا ڈا کرتا کرتا ہوں۔ جو شخص ایسی باتیں کرنے والوں تعلق رکھتا ہے۔ وہ بے حیا اور بے غیرت ہے۔ مومن ہرگز نہیں اور جو ایسی بات سن کر جوش میں آتا اور قانون کو اپنے ہاتھ میں لیتا ہے۔ وہ وحشی اور نافرمان ہے۔ مومن کا رستہ درمیانہ ہوتا ہے اور وہ جب ایسی بات سنتا اور غیرت کی وجہ سے اسے جوش آتا ہے تو وہ خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت اسے دباتا اور ایسے لوگوں سے قطع تعلق کر لیتا ہے کئی لوگ ایسے بے غیرت اور بے حیا ہوتے ہیں کہ وہ ایسی باتیں سننے کے باوجود دشمنانِ سلسلہ سے سے