خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 347 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 347

1941ء 348 خطبات محمود تو ٹھنڈا پانی پی لے۔ یہ بھی دراصل وہاں سے چلے جانے کے ہی مترادف ہے اور یہ بھی دراصل قرآن کریم کے وہاں سے چلے جانے کے حکم کی تشریح ہے اور اس کے چھوٹے درجے بیان کئے گئے ہیں۔ اور یہ بھی ایک قسم کا غصہ کے مقام سے ہٹ جانا ہی ہے کہ کھڑا ہوا آدمی بیٹھ جائے یا بیٹھا ہوا لیٹ جائے یا ٹھنڈا پانی پی لے۔ تھوڑے اشتعال کے وقت بیٹھ جانا یا لیٹ جانا یا ٹھنڈ اپانی پی لینا ہی کافی ہے۔ یہ تھوڑے جوش کے وقت فائدہ دیتا ہے لیکن اگر اشتعال زیادہ ہو تو قرآن کریم کا بتایا ہوا نسخہ فائدہ دے جاتا ہے اور حقیقی طور پر وہاں سے چلے جانے سے اشتعال سکتا ہے۔ قرآن کریم کے اس حکم کی حکمت یہی ہے کہ اشتعال کے نتائج ہمیشہ بُرے ہوتے ہیں۔ اشتعال کی وجہ سے اگر کوئی ایسی بات کی جائے جو نیکی ہو تو وہ بھی انسان کو فائدہ نہیں پہنچا سکتی اور نہ اسے خدا تعالیٰ کے قریب کر سکتی ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ ایک لڑائی کے موقع پر ایک شخص بڑے جوش کے ساتھ دور ہو لڑ رہا تھا۔ صحابہ نے دیکھا تو کہا اللہ تعالیٰ اسے جنت نصیب کرے اس نے آج مسلمانوں کی اتنی خدمت کی ہے کہ کسی نے نہ کی ہو گی۔ رسول کریم صلی علیم نے اسے لڑتے دیکھا تو فرمایا۔ اگر کسی نے دنیا میں چلتا پھر تا دوزخی دیکھنا ہو تو اسے دیکھ لے۔ صحابہ نے جو اس کی اتنی تعریف کرتے تھے یہ بات سنی تو بہت حیران ہوئے اور بعض کمزور طبائع نے کہا کہ عجیب بات ہے کہ ایسی خدمت کرنے والے کو رسول کریم صلی علیم نے دوزخی فرمایا ہے۔ ایک صحابی بیان کرتے ہیں۔ ہیں کہ میں نے دل میں خیال کیا کہ اگر اس شخص کے حالات ظاہر نہ ہوئے تو بعض لوگوں کے لئے یہ بات ابتلاء کا موجب ہو گی اس لئے میں نے کہا خدا کی قسم میں اس شخص سے جدا نہ ہوں گا الله جب تک کہ اس کا انجام نہ دیکھ لوں تا رسول کریم صلی الم کی صداقت ظاہر ہو چنانچه ہو میں اس کے ساتھ ہو لیا۔ وہ بڑی بہادری سے لڑتا رہا حتی کہ سر سے پاؤں تک زخمی کر گر پڑا اور شدت درد کی وجہ سے کراہنے لگا۔ لوگ اس کے پاس جنت کی مبارک دینے آتے اور کہتے کہ تمہارا انجام کیسا اچھا ہو رہا ہے کہ تم دین کے لئے ایسی بہادری