خطبات محمود (جلد 22) — Page 321
1941ء 322 خطبات محمود سه اس پر عکرمہ نے نہایت ہی درد کے ساتھ اپیل کی اور کہا کہ آپ لوگ ہماری قلبی کیفیات کو نہیں سمجھ سکتے۔ آپ نہیں جانتے کہ ہمارے دلوں میں کیا آگ لگ رہی ہے۔ آپ رسول کریم صلی الیم پر ایمان لائے اور آپ نے سالہا سال تک ان کا ساتھ دیا مگر ہم ایک لمبے عرصہ تک رسول کریم صلی الم کی مخالفت کرتے رہے۔ پس اب ہمیں اپنے گناہوں کا کفارہ تو کرنے دو اور ہمیں اجازت دو کہ ہم چند سپاہی لے کر دشمن پر ٹوٹ پریں۔ آخر انہی کی بات غالب آئی دو سو سپاہی چنے گئے جن میں بعض صحابہ بھی تھے اور انہوں نے قلب لشکر پر حملہ کر دیا اور ایسی شدت کے ساتھ حملہ کیا کہ جہاں جرنیل کھڑا تھا وہاں پہنچ گئے اور بہتوں کو تہ تیغ کر دیا۔ اس کے معاً بعد اسلامی لشکر نے حملہ کر دیا اور باوجود اس کے کہ عیسائی مسلمانوں سے کئی گنا زیادہ تھے اور باوجود اس کے کہ عیسائیوں کا کمانڈر ایک ایسا شخص تھا جس کے ساتھ قیصر روما نے یہ وعدہ کیا تھا کہ اگر تم جیت گئے تو میں اپنی بیٹی کا نکاح تم سے کر دوں گا اور اپنی آدھی بادشاہت تمہیں دے دوں گا۔ انہوں نے عیسائیوں کو شکست دی۔ جنگ کے بعد کئی مسلمان میدان میں زخمی پڑے تھے جن میں سے ایک عکرمہ بھی تھے۔ اتنے میں کسی شخص نے دیکھا کہ عکرمہ کے ہونٹ خشک ہو رہے ہیں اور ان پر جان کنی کی حالت طاری ہے اس کے پاس پانی کی چھاگل تھی۔ عکرمہ کی نظر اس چھا گل پر پڑی اور وہ شخص سمجھ گیا کہ انہیں پیاس لگی ہوئی ہے چنانچہ وہ چھاگل ان کے پاس لے گیا اتفاقاً اسی وقت عکرمہ کے پاس ایک اور صحابی زخموں سے تڑپ رہے تھے اور انہیں بھی شدید پیاس تھی انہوں نے اس صحابی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ مجھ سے زیادہ حق ان کا ہے یہ رسول کریم صلی الم کے دیرینہ صحابی ہیں تم پہلے انہیں پانی پلاؤ۔ وہ ان کے پاس پانی لے گیا تو اس صحابی کے قریب فضل جو حضرت عباس کے لڑکے اور عبد اللہ بن عباس کے بھائی تھے وہ زخمی پڑے ہوئے تھے۔انہوں نے کہا مجھ سے زیادہ فضل کو پیاس معلوم ہوتی ہے تم پہلے انہیں پانی پلاؤ۔ وہ ان کے پاس لے گیا تو انہوں نے ایک اور کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ پہلے اسے پانی پلایا جائے۔ ندستان