خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 318 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 318

1941ء 319 خطبات محمود رو کر بیان کیا کہ میں رسول کریم صلی ال سلیم کا حلیہ بیان نہیں کر سکتا کیونکہ مجھ پر دو زمانے آئے ہیں اور دونوں زمانے ہی جذبات کے لحاظ سے شدید تھے۔ ایک زمانہ تو وہ تھا کہ میں رسول کریم صلی علیم کا شدید ترین دشمن تھا اور میں آپ کو نَعُوذُ بِاللهِ مخلوقات میں سے بدترین مخلوق سمجھتا تھا اور اس قدر میرے دل میں آپ کی نسبت بغض اور اس قدر غضب تھا کہ میں آپ کی شکل تک دیکھنا گوارا نہیں کرتا تھا۔ چنانچہ اس غضب اور غصہ کی وجہ سے میں نے آپ کی شکل نہیں دیکھی اور میں نہیں کہہ سکتا کہ آپ کی صورت کیسی تھی۔ پھر ایک زمانہ مجھ پر ایسا آیا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے ہدایت دی اور میں آپ پر ایمان لے آیا اور میرے دل میں اتنا تغیر پیدا ہوا اور میں رسول کریم صلی الم کے وجود کو اتنا قیمتی، اتنا اعلیٰ ارفع سمجھنے لگا کہ آپ کے رعب کی وجہ سے میں آپ کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھ سکتا تھا۔ اس لئے میں نہیں بتا سکتا کہ رسول کریم صلی الم کا کیا حلیہ تھا۔ 1 اور اتنا ار یہ کتنا عظیم الشان تغییر ہے جو حضرت عمرو بن العاص میں پیدا ہوا مگر بہر حال یہ ایک طبعی تغیر ہے اور بالکل ممکن ہے کہ انسان کے خیالات ایک وقت کچھ ہوں اور دوسرے وقت کچھ۔ پھر اس قسم کے لوگ جیسے حضرت عمرو بن العاص تھے اور بھی مسلمانوں میں سینکڑوں پائے جاتے تھے۔ چنانچہ خالد بن ولید کو ہی دیکھ لو جنہیں ” سیف اللہ “ کا خطاب ملا ہے۔ وہ احد کی جنگ میں ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے پیچھے ہٹ کر مسلمانوں پر حملہ کیا اور انہیں بہت سخت نقصان پہنچایا۔ ایک شدید ترین دشمن کی اولاد میں سے تھے اور اسلام کا ایک لمبے عرصہ تک مقابلہ کرتے رہے ہے مگر اس کے بعد جب انہوں نے اسلام قبول کیا تو تو وہ وہ ایسے ا فدائی ہوئے کہ یا تو اپنی تمام کوششیں اسلام کو تباہ کرنے میں صرف کر رہے تھے یا جب فوت ہونے لگے تو اپنی زندگی کی آخری گھڑیوں میں نہایت کرب و اضطراب کی حالت میں بار بار کروٹیں بدلتے تھے۔ کسی نے کہا خالد ! تم ایسا کیوں کرتے ہو؟ تم کو اسلام کی اتنی بڑی خدمت کی توفیق ملی ہے کہ بہت کم لوگ ایسی خدمت کر سکے ہیں۔ تم اگر