خطبات محمود (جلد 22) — Page 220
1941 ء 221 خطبات محمود ہوئی مسجد کو منسوخ کر دیا اور اس نے کرشن علیہ السلام کی بنائی ہوئی مسجد کو منسوخ کر دیا اور اس نے رام چندر جی علیہ السلام کی بنائی ہوئی مسجد کو منسوخ کر دیا اور اس نے زرتشت علیہ السلام کی بنائی ہوئی مسجد کو منسوخ کر دیا اور اسی طرح اس نے ان تمام انبیاء کی مسجدوں کو منسوخ کر دیا جو آگے پیچھے آچکے ہیں اور دنیا میں یہ اعلان کرا دیا کہ اب محمد صلی العلم کی بنائی ہوئی مسجد ہی قائم رہے گی۔ پس تم بتاؤ کہ کیا تم حضرت کرشن علیہ السلام سے زیادہ خدا کو پیارے ہو ؟ م الله س یا کیا تم حضرت رام چندر علیہ السلام سے زیادہ خدا کو پیارے ہو ؟ یا تم آدم علیہ السلام سے زیادہ خدا کو پیارے ہو ؟ یا تم نوح علیہ السلام سے زیادہ خدا کے پیارے ہو ؟ یا تم موسیٰ علیہ السلام سے زیادہ خدا کے پیارے ہو ؟ یا تم عیسیٰ علیہ السلام سے زیادہ خدا کے پیارے ہو کہ خدا نے ان کی مسجدوں کو تو منسوخ کر دیا مگر وہ تمہارے گھر کی بنی ہوئی مسجد کو قبول کرے گا۔اس نے تو صاف طور پر کہہ دیا تھا کہ میں محمد صلی اللی سیم کی مسجد کو ہی قبول کروں گا۔ مگر تم کہتے ہو جی ہاں۔ یہ آدم کے متعلق ہے ہمارے متعلق نہیں۔ آدم کی مسجد بے شک خدا تعالیٰ قبول نہیں کر سکتا مگر محمد صلی علیم کے مقابلہ میں ہماری مسجد کو وہ ضرور قبول کرے گا۔ اسی طرح نوح علیہ السلام کی مسجد اس نے بے شک منسوخ کر دی مگر ان بے چاروں کی کیا حیثیت تھی ان کی مسجد تو في الواقع اس قابل تھی کہ محمد صلی اللی علم کی مسجد کے مقابلہ میں منسوخ کر دی جاتی مگر ہماری مسجد منسوخ نہیں ہو سکتی۔ اسی طرح اس نے عیسیٰ علیہ السلام کی مسجد کو منسوخ کر دیا مگر ہماری مسجد کو منسوخ نہیں کیا، اس نے موسیٰ علیہ السلام کی مسجد کو منسوخ کر دیا مگر ہماری مسجد کو منسوخ نہیں کیا، اس نے رام چندر کی مسجد کو منسوخ کر دیا مگر ہماری مسجد کو منسوخ نہیں کیا، اس نے کرشن کی مسجد کو منسوخ کر دیا مگر ہماری مسجد کو منسوخ نہیں کیا، اس نے زرتشت کی مسجد کو منسوخ کر دیا مگر ہماری مسجد کو منسوخ نہیں کیا۔ گویا دنیا جہان کی ساری مسجدیں محمد صل السلام کی مسجد کے آگے پھیکی پڑ گئیں۔ لیکن اس ایرے غیرے کی مسجد قائم ہے۔ اور یہ خیال کرتا ہے کہ