خطبات محمود (جلد 22) — Page 201
1941 ء 202 خطبات محمود یہ معنی ہوئے کہ کوؤں ، تلیروں، بٹیروں اور کبوتروں کی حفاظت کے سامان تو ہیں، سانپ اور بچھو کے بچاؤ کے سامان قدرت نے رکھے ہیں مگر انسان کو ایسا بنایا ہے کہ اس کے ایک طبقہ کو حفاظت کے سامانوں سے محروم کیا جا سکتا ہے مگر کیا اللہ تعالیٰ ایسا کر سکتا ہے؟ کیا یہ ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا اور پھر اسے حفاظت کے سامانوں سے محروم کر دیا ہو۔ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسا نہیں ہو سکتا۔ اللہ تعالیٰ بے انصاف نہیں اس نے ہر قوم کی حفاظت اور ترقی کے سامان مہیا کر دیئے ہیں۔ پھر سوال ہوتا ہے کہ جب یہ ممکن ہے کہ بعض قو میں دوسری قوموں کو ان سامانوں سے محروم کر دیں تو پھر ان کی حفاظت کا کیا سامان ہے۔ لا قرآن کریم نے ایسے لوگوں کی حفاظت کا سامان بھی بتایا۔ چنانچہ فرمایا أَجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ - 1 غالب اقوام کمزوروں کو حفاظت کے سامانوں سے محروم کر دیتی ہیں اور ان کو دبا لیتی ہیں، نہتا کر دیتی ہیں۔ گویا ان کے پر کاٹ دیتی ہیں اور یہ افراد کے ساتھ بھی ہوتا ہے اور قوموں اور ملکوں کے ساتھ بھی۔ جانوروں کے ساتھ کوئی یہ سلوک نہیں کر سکتا۔ یہ تو ہو سکتا ہے کہ کوئی دس ہیں یا سو پچاس کبوتروں کے پر کاٹ دے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جو مچھلی پکڑی جائے اس کے کانٹے اُڑا دیئے جائیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ جو سانپ پکڑا جائے اس کی کچلیاں توڑ دی جائیں۔ مگر یہ ممکن نہیں کہ کسی ملک کے سارے کبوتروں کے پر کاٹے جا سکیں۔ کسی ملک کے پانیوں میں رہنے والی سب مچھلیوں کے کانٹے اڑا دئے جائیں اور کسی ملک کے سارے سانپوں کو زہر کی کھیلیوں سے محروم کر دیا جائے۔ مگر انسانوں کے متعلق یہ ممکن ہے اس لئے اس کے واسطے اللہ تعالیٰ نے علیحدہ طاقت بھی عطا فرمائی ہے۔ چنانچہ فرمایا کہ جب ایسی حالت ہو تو اس وقت ایسے لوگوں کی توپ، بندوق، بم، مشین گن اور ہوائی جہاز دعا ہے۔ دعا ہی ایسے وقت میں اس کا ہتھیار بن جاتا ہے۔ وہی اس کی حفاظت کا سامان بن جاتا ہے۔ قرآن کریم نے فرمایا