خطبات محمود (جلد 22) — Page 161
1941 ء 162 (11 بعض شکایات اور ان کے جوابات )فرمودہ 28 مارچ 1941ء( خطبات محمود تشہد، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔ آج میرے پاس ایک دوست نے کچھ شکایات بھجوائی ہیں جو ایک ناظر کے متعلق ہیں۔ ان کا کچھ حصہ تو ذاتی ہے اور کچھ دفتری۔ دفتری شکایات کے متعلق قاعدہ یہ ہے کہ اگر کوئی کارکن اپنے افسر کے فیصلہ کے خلاف اپیل کرنا چاہے تو صدر انجمن احمدیہ کے پاس کرے اور اس کے فیصلہ کے خلاف اپیل کرنا چاہے تو خلیفہ وقت کے پاس کر سکتا ہے۔ خلیفہ کے پاس اپیل کے متعلق قواعد سے بھی بعض لوگ واقف نہیں۔ اور میں نے دیکھا ہے کہ بعض کارکن بھی انجمن کے فیصلہ کے خلاف اپیل براہ راست مجھے بھیج دیتے ہیں حالانکہ قاعدہ یہ ہے ایسی اپیل بھی انجمن کے واسطہ سے آنی چاہئے۔ بعض خیال کرتے ہیں کہ انجمن چونکہ خلاف فیصلہ کر چکی ہے اس لئے شاید اپنے فیصلہ کے خلاف اپیل میرے پاس نہ پہنچنے دے اور روک لے۔ حالانکہ قانون یہ ہے کہ وہ ایسی اپیل کو روک نہیں سکتی۔ اس کی وساطت سے آنے کے معنے صرف یہ ہیں کہ وہ اپنا جواب بھی ساتھ شامل کر دے دے اور وقت ضائع نہ ہو۔ ورنہ صدر انجمن کو یہ اختیار نہیں کہ وہ میرے پاس کسی اپیل کو آنے سے روک دے اور کہہ دے کہ ہم یہ اپیل اوپر نہیں بھیجتے۔ اس دوست کی شکایات کا جو حصہ دفتری ہے اس کے متعلق تو نہ میں کچھ کہہ سکتا ہوں اور نہ کہنا چاہتا ہوں اس لئے کہ وہ خلاف قاعدہ بھی ہے اور اس کا