خطبات محمود (جلد 22) — Page 107
1941ء 107 خطبات محمود بیٹھے بیٹھے جیسے بچے چلتے ہیں، گھسٹ گھسٹ کر مسجد میں پہنچے۔ کسی شخص نے جو اس راز کو نہیں سمجھتا تھا کہ اطاعت اور فرمانبرداری کی روح دنیا میں قوموں کو کس طرح کامیاب کیا کرتی ہے جب حضرت عبد اللہ بن مسعود کو اس طرح چلتے دیکھا تو اس نے اعتراض کیا اور کہا کہ یہ کیسی بے وقوفی کی بات ہے۔ رسول کریم صلی الم کا مطلب تو یہ تھا کہ مسجد میں جو لوگ کناروں پر کھڑے ہیں وہ بیٹھ جائیں مگر آپ گلی میں ہی بیٹھ گئے اور گھسٹتے ہوئے مسجد میں آئے۔ آپ کو چاہئے تھا کہ آپ جب مسجد میں پہنچ جاتے تو اس وقت بیٹھتے گلی میں ہی بیٹھ جانے کا کیا فائدہ تھا۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود نے جواب دیا۔ ہاں یہ ہو تو سکتا تھا لیکن اگر مسجد میں پہنچنے سے پہلے ہی میں مر جاتا تو رسول کریم صلی الم کا یہ حکم میرے عمل میں نہ آتا اور کم سے کم ایک بات ایسی ضرور رہ جاتی جس پر میں نے عمل نہ کیا ہوتا۔ اس لئے میں نے مناسب نہ سمجھا کہ میں چلتا ہوا آؤں اور پھر مسجد میں آکر بیٹھوں۔ میں نے خیال کیا کہ زندگی کا کیا اعتبار ہے شاید میں مسجد میں پہنچوں یا نہ پہنچوں اس لئے ابھی بیٹھ جانا چاہئے تاکہ اس حکم پر بھی عمل ہو جائے۔ انہی عبد اللہ بن مسعودؓ کا واقعہ ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنے زمانہ خلافت میں ایک دفعہ حج کے ایام میں مکہ مکرمہ میں چار رکعتیں پڑھیں۔ رسول کریم صلی الملم جب حج کے لئے تشریف لائے تھے تو آپ نے وہاں دو رکعتیں پڑھیں تھیں کیونکہ مسافر کو دو رکعت نماز پڑھنے کا ہی حکم ہے۔ پھر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ اپنے زمانہ خلافت میں تشریف لائے تو آپ نے بھی دو ہی پڑھیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ حج کے لئے تشریف لائے تو انہوں نے بھی دو ہی پڑھی تھیں۔ مگر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے چار رکعتیں پڑھا دیں۔ اس پر لوگوں میں ایک شور برپا ہو گیا اور انہوں نے کہا کہ عثمان نے رسول کریم صلی الم کی سنت کو بدل دیا ہے۔ چنانچہ حضرت عثمان کے پاس لوگ آئے اور انہوں نے دریافت کیا کہ آپ نے چار رکعتیں کیوں پڑھی ہیں؟ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا بات یہ ہے کہ میں نے ایک اجتہاد کیا ہے اور