خطبات محمود (جلد 21) — Page 90
1940ء 90 خطبات محمود دیئے اور اسے یہاں لے آئے۔ پھر ہم اس کے دشمنوں کے ساتھ لڑے اور قربانیاں کرتے رہے حتی کہ فتح حاصل کر لی مگر جب فتح حاصل ہو گئی تو اس نے اموال اپنے رشتہ داروں میں تقسیم کر دیئے اور ہم خالی ہاتھ رہ گئے۔ آپؐ نے فرمایا اے انصار ! بیشک تم یہ کہہ سکتے ہو ۔ یہ بات سن کر انصار جو اخلاص و قربانی کا ایک ہی نمونہ تھے بلکہ بعض رنگ میں ان جیسی قربانی کرنے والی کوئی اور قوم ملتی ہی نہیں۔ بے شک مہاجرین نے بھی بڑی قربانیاں کی ہیں مگر وہ قربانی جس کا بدلہ دنیا میں نہیں ملا وہ انصار ہی کی ہے۔ رسول کریم صلی الم کی یہ بات سن کر ان کے دلوں کی کیفیت کیا ہو گی یہ ظاہر ہے۔ وہ بے اختیار رونے لگے اور عرض کیا یارسول اللہ ! ایک نوجوان کی غلطی ہے۔ آپ نے فرمایا کہ نہیں۔ یہ بات تم کہہ سکتے ہو مگر تم ایک اور بات بھی کہہ بھی کہہ سکتے ہو اور وہ یہ کہ محمد صلی العلیم مکہ میں پیدا ہوا اور اس کی پیدائش سے اللہ تعالیٰ نے مکہ کو عظمت عطا کی مگر مکہ والوں نے اس نعمت کی ناشکری کی اور اس کی ناشکری کی سزا کے طور پر اللہ تعالیٰ اسے مکہ سے مدینہ لے گیا اور اس پر اپنے فضلوں کی بارش کی اور وہ اور اس کے ساتھی اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت سے بڑھنے لگے حتی کہ انہوں نے مکہ کو فتح کر لیا۔ پھر مکہ والوں نے یہ امید کی کہ شاید اب ہمارا محمد ( صلی الم ہمیں دوبارہ مل جائے گا مگر ہوا کیا؟ فتح کے بعد مکہ والے تو بھیڑ بکریاں اور اونٹ ہانک کر لے گئے اور انصار خدا تعالیٰ کے رسول کر اپنے ساتھ لے گئے۔1 صا لہ دو دوسرے پس میں بھی وہی کہتا ہوں جو میرے آقا محمد مصطفے صلی اللہ سلیم نے فرمایا تھا کہ و لوگوں کو تو مال و دولت مل جاتا ہے مگر تم جو قربانیاں کرتے ہو ان کے نتیجہ میں تمہارا خدا تمہیں ملتا ہے اور یہ انعام کوئی معمولی انعام نہیں ہے۔ اپنا اپنا نقطۂ نگاہ ہے جو نادان اس بات کو ترجیح دیتے ہیں کہ ان کی قربانیوں کے عوض ان کو دنیوی عزت اور مال و دولت حاصل ہو ان کا کوئی علاج میرے پاس نہیں۔ جس کی روحانی نظر تیز ہے اس کے لئے تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑھ کر کوئی دولت نہیں اور پھر اگر دیکھا جائے تو ظاہری لحاظ سے بھی اللہ تعالیٰ کے فضل ہم پر زیادہ ہو رہے ہیں۔ پہلے سے بہت زیادہ مالدار لوگ اب ہم میں موجود ہیں۔ پہلے سے بہت بڑے عہدیدار ہم میں شامل ہیں اور پہلے سے بہت زیادہ عزت والے لوگ آج ہم میں موجود ہیں۔