خطبات محمود (جلد 21) — Page 480
1940ء 479 خطبات محمود موقع تھا ان کے لحاظ سے تو ان پر ہمیں بے شک فضیلت ہے۔ دینی تشریحات اور روحانی معارف اگر ان سے زیادہ ہوں تو یہ تو بے شک زائد چیز ہے اور فضل ہے لیکن اگر آج ہم پر ان پیشگوئیوں کے مطالب کھلتے ہیں جو اس زمانہ کے متعلق ہیں تو اس بارہ میں ان کو بے وقوف اور جاہل کہنا ہماری اپنی بے وقوفی اور جہالت ہے کیونکہ یہ ان کے زمانہ کی بات ہی نہ تھی۔ کیا رطب و یابس قصے ہیں جو پہلوں نے بیان کر دیتے ہیں کہ یا جوج ماجوج کے کان اتنے بڑے بڑے ہوں گے کہ ایک کو نیچے بطور بستر بچھالے گا اور دوسرے کو بطور لحاف او پر لے لے گا۔ وہ دیواریں چاٹے گا اور مردے کھائے گا۔ انہوں نے یہود کی ان روایات کو اس لئے مان لیا کہ ان کے پرکھنے کا ذریعہ ان کے پاس نہ تھا۔ آج ہم ان باتوں کو اس لئے حل کر لیتے ہیں کہ یہ امور ہمارے سامنے ہیں۔ ان میں سے جب کوئی کسی یہودی سے اس قسم کی باتیں سنتا ہو گا تو بڑا خوش ہوتا ہو گا اور خیال کرتا ہو گا کہ آج کوئی شاگرد حقیقت دریافت کرے تو اسے بتاؤں۔ اسی طرح ممکن ہے کہ بعض پیشگوئیاں جو آئندہ کے متعلق ہیں ہم ان کی کوئی تاویل کریں جو غلط ہو اور جب ان کے مطالب کھلیں تو آئندہ زمانہ کے مفسر ہمارے متعلق کہیں کہ کتنے بے وقوف لوگ تھے کہ ان کی حقیقت کو نہ سمجھ سکے ۔ پس خدا تعالیٰ کے کلام کا احاطہ کرنا نا ممکن ہے اور اگر کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ میں قرآن کریم کی مکمل تفسیر سمجھ گیا ہوں تو وہ غلط کہتا ہے۔ ہم جو تفسیر کرتے ہیں وہ کلام الہی کی نہیں بلکہ صرف ان پہلوؤں کی تفسیر ہے جو ہمارے زمانہ سے متعلق ہے۔ پس قرآن کریم کی تفسیر ایسی ذمہ داری کا کام ہے کہ میں ہمیشہ اس میں ہاتھ ڈالنے سے ڈرتا ہوں اور ترجمہ سے تو بہت ہی ڈرتا ہوں۔ لکھتا ہوں، پھر کاٹتا ہوں۔ لکھتا ہوں، پھر کاٹتا ہوں۔ شائع ہونے والی جلد کا ترجمہ پہلے میں نے شروع کیا۔ پھر مولوی محمد اسمعیل صاحب مرحوم کے سپرد کر کے خود نظر ثانی کی۔ ترجمہ سے تو بہت ہی ڈرتا ہوں کیونکہ اگر کسی وجہ سے کوئی غلطی ہو جائے تو عوام کہیں گے کہ یہ خلیفتہ المسیح الثانی کا لکھا ہوا ترجمہ ہے غلط نہیں ہو سکتا اور یہ خیال نہیں کریں گے کہ انسان سے غلطیاں بھی ہو جاتی ہیں۔ عقلمند انسان تو سمجھ جاتا ہے کہ بعض اوقات کا تب سے غلطی ہو جاتی ہے۔ چھپنے میں کوئی غلطی ہو جاتی ہے مگر عام لوگ ان باتوں کو نہیں سمجھ سکتے ۔ وہ تو کہتے ہیں کہ بس جی خلیفہ المسیح الثانی