خطبات محمود (جلد 21) — Page 474
1940ء 473 خطبات محمود درست کر دے کیونکہ اگر یہ اجازت ہو تو نہ معلوم کسی بات کو کیا سے کیا بنا دے۔ غرض کاتبوں کی حالت قابلِ رحم ہوتی ہے اور اس وقت جو کاتب کام کر رہے ہیں ان پر کام کا بڑا بار ہے۔ کا تب اگر اچھا لکھے تو 6 سے 8 صفحے روزانہ لکھ سکتا ہے۔ مگر اب کام کی زیادتی کی وجہ سے 12 سے 16 صفحے تک روزانہ ایک ایک کاتب سے لکھوایا جارہا ہے کیونکہ اگر ایسا نہ کریں تو کام جلسہ تک ختم نہ ہو سکے گا۔ اس کے بعد اہم کام چھپوائی کا ہے مگر خدا تعالیٰ نے اس کے لئے بہت کچھ سہولت عطا کر رکھی ہے۔ ایک وقت تو وہ تھا جب کہ دستی پر لیس چلانا بھی مشکل تھا مگر اب دو پر یس کام کر رہے ہیں اور ایک میں دو مشینیں چل رہی ہیں ۔ کجا تو یہ کہ دستی پر یس بھی نہ تھا اور کجا یہ کہ مشینیں کام کر رہی ہیں اور بجلی سے دو دو پر لیس چل رہے ہیں۔ پریس والوں نے وعدہ کیا ہے کہ 48 صفحے روزانہ چھاپ کر دیتے رہیں گے۔ اس وقت تک ساڑھے سات سو صفحے چھپ چکے ہیں اور پونے دو سو کے قریب چھپنے باقی ہیں۔ مگر ان کے متعلق کوئی فکر نہیں ہے۔ البتہ کا تبوں کا کام ایسا ہے کہ اگر ایک کی بھی صحت خراب ہو گئی تو کام رک جانے کا اندیشہ ہے۔ پھر جلد سازی کا مرحلہ طے ہونا باقی ہے۔ جلد ساز سے عہد لے لیا گیا ہے کہ تمام کا پیاں چھپ جانے کے بعد کم از کم 75 جلدیں روزانہ کے حساب سے دے گا اور اس لحاظ سے 30، 31 دسمبر تک 9،8 سوکتابیں مجلد مل سکتی ہیں اور باقی بعد میں بھیجی جا سکتی ہیں۔ مگر جلد ساز ایسے طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں جو بہانہ سازی میں بڑے مشاق ہوتے ہیں۔ حضرت خلیفۃ المسیح الاول سنایا کرتے تھے کہ نواب محمد علی خان صاحب سے میں نے ایک کتاب مانگی۔ انہوں نے کہا جلد ساز کے پاس گئی ہوئی ہے۔ کچھ عرصہ کے بعد پھر مانگی تو نواب صاحب نے وہی جواب دیا جو پہلے دیا تھا۔ پھر سال دو سال کے بعد مانگی تب بھی انہوں نے یہی یہی کا کہا کہ جلد ساز ساز کے پاس ہے۔ اس پر میں نے کہا کیا ! آپ آپ نے نے وہ وہ کتاب جلد ساز کے لئے خریدی تھی۔ اتنے عرصہ سے مانگ رہا ہوں اور آپ کہتے ہیں جلد ساز کے پاس ہے۔ نواب صاحب نے کہا کہ وہ تو 18 سال سے اس کے پاس پڑی ہے۔ کتب خانہ کی کچھ کتابوں کی جلدیں چوہے خراب کر گئے تھے۔ وہ جلد ساز کے حوالے کی گئی تھیں کہ جلدیں ٹھیک کر دے مگر ابھی تک