خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 466 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 466

1940ء 465 خطبات محمود پس یہ غلط ہے کہ مومن اس لئے قربانی کرتا ہے کہ اسے ترقیات کی امید ہوتی ہے۔ اگر ترقیات کے وعدے نہ ہوتے، فرض کرو حیات بَعْدَ الْمَوْت نہ ہو ، جنت دوزخ بھی نہ ہو تب بھی مومن خدا تعالیٰ کے لئے قربانی کرنے میں کبھی تامل نہ کرے گا۔ عام لوگ جو قوم کے لئے قربانیاں کرتے ہیں یا ملک کے لئے کرتے ہیں کیا ان کو یقین ہوتا ہے کہ مرنے کے بعد اس کا کوئی صلہ انہیں ملے گا۔ سو میں سے ایک بھی اس بات کا قائل نہ ہو گا مگر پھر بھی دیکھو لوگ کس طرح جانیں دیتے ہیں۔ پس یہ خیال بالکل غلط ہے کہ مومن کی قربانی صلہ کے لالچ کی وجہ سے ہوتی ہے۔ انبیاء کے ابتدائی زمانہ میں تو صلہ کی امید کا خیال بھی غلطی ہے۔ اس لئے یہ زمانہ قربانی کے لئے بہترین زمانہ ہوتا ہے۔ دوسروں کی قربانیاں ملک و قوم کے لئے ہوتی ہیں مگر ان کی قربانیوں کے متعلق اللہ تعالیٰ ان سے کہے گا کہ تم نے ملک کے لئے قربانیاں کیں اور تم جانتے تھے کہ تمہارا ملک شوکت و عظمت رکھتا ہے اس لئے اس کے لئے قربانی تمہارے لئے عزت کا موجب ہے۔ قوم کے لئے قربانی بھی عزت کا موجب ہے۔ جو لوگ قوم کے لئے مر جاتے ہیں ان کی کس قدر عزت ہوتی ہے۔ ایسی موت تو آدمی کو قومی لیڈر بنا دیتی ہے۔ ایسے لوگوں کی اولاد کے لئے بھی ترقی یافتہ قو میں انتظام کرتی ہیں اور ایسے لوگوں کو یہ تو اطمینان ہو تا ہے کہ ہماری اولاد خراب نہ ہو گی۔ سینکڑوں واقعات ایسے ہوتے ہیں کہ کسی سے کسی کی دشمنی ہوتی ہے مگر وہ کسی چوہڑے وغیرہ سے اپنے دشمن کو قتل کرا دیتا ہے۔ زمیندار کہتا ہے کہ فلاں آدمی کو مار ڈالو۔ اوّل تو میں تمہیں مقدمہ سے بچانے کی کوشش کروں گا لیکن اگر سزا پا جاؤ گے تو تمہارے بیوی بچوں کے گزارہ کا انتظام کر دوں گا۔ وہ سمجھتا ہے اول تو ضروری نہیں کہ میں پکڑا ہی جاؤں یا اگر پکڑا جاؤں تو سزا بھی پا جاؤں۔ اور اگر سزا بھی ہو جائے تو کیا ہے بیوی بچے تو آرام سے گزارہ کریں گے ۔ اس لئے اس لالچ میں آکر وہ یہ فعل کر لیتا ہے۔ پس لوگ ایسی قربانیاں کرتے ہیں۔ پڑھے لکھے لوگ ملک و قوم کے لئے قربانیاں کرتے ہیں مگر ان کو اپنی اس قربانی کی کامیابی کا یقین ہو تا ہے۔ وہ کا یقین ہوتا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ اس کا صلہ ان کو یا ان کے بیوی بچوں کو ملے گا اور ایسی قربانیاں مشکل نہیں لیکن دین کے لئے آج قربانی کرنا مشکل ہے کیونکہ موجودہ حالات میں یہ اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ اس رستہ پر چلنا ایسا ہی ہے