خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 445 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 445

1940ء 444 خطبات محمود بڑے بڑے لوگ بھی یہ سمجھتے تھے کہ ان کی بات معقول ہوتی ہے۔ انہوں نے سمجھایا کہ تمہیں پتہ نہیں مکہ میں جتنا غلہ آتا ہے سب اس کے علاقہ میں سے گزر کر آتا ہے۔ اگر اس کے قبیلے والوں کو معلوم ہوا کہ مکہ کے آدمیوں نے اسے مارا ہے تو وہ اس ذلت کو برداشت نہیں کر سکیں گے اور غلے کو روک لیں گے۔ پھر تم کھاؤ گے کہاں سے؟ اس پر انہوں نے ابوذر کو چھوڑ دیا مگر دوسرے دن انہوں نے پھر قریش مکہ کو اسلام اور رسول کریم صلی الم کے خلاف باتیں کرتے دیکھا تو پھر بلند آواز سے کلمہ توحید پڑھ دیا اور پھر نوجوان انہیں مارنے کے لئے کھڑے ہو گئے۔ اس پر پھر حضرت عباس نے ہی ان کو چھڑایا۔ غرض اسی طرح مسلسل تین دن ہو تا رہا۔ اس کے بعد اسلام کو چھپانے کا کوئی سوال ہی نہ رہا۔ ابو ذر اسلام کے لئے ایک سنگی تلوار بن گیا اور پھر یہ تلوار موت تک میان میں نہیں گئی۔ ان کی طبیعت بعد میں بھی ایسی جو شیلی رہی کہ ذراسی بات بھی اگر وہ ناپسند دیکھتے تو فوراً شور مچا دیا کرتے تھے۔ 2 اب دیکھو ایک تو وہ شخص تھا جس نے منزلوں دور یہ اُڑتی ہوئی خبر سنی کہ ایک پاگل ہے جس نے مکہ میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ وہ خدا کا رسول ہے اور وہ یہ سنتے ہی گھر سے نکل کھڑا ہوا اور اس نے سمجھا کہ خدا کی طرف اپنے دعوے کو منسوب کرنے والے کی بات ضرور سننی چاہیے۔ مگر خود مکہ میں رہنے والے محروم رہے۔ بہت تھے جو دو دو سال نہیں، چار چار سال نہیں، آٹھ آٹھ سال نہیں، بارہ بارہ سال نہیں، میں ہیں، اکیس اکیس سال تک مخالف رہے اور پھر یا تو تباہ ہو گئے یا بہت بعد اسلام میں داخل ہوئے۔ تو متواتر ربع صدی یا خمس صدی کے قریب انہوں نے مخالفتیں کیں اور ان کو رسول کریم صلی الم کے قرب کا کوئی فائدہ نہ ہوا کیونکہ خدا نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی تھی اور جن کے دل دلوں پر مہر لگ جائے خدا انہیں اپنی برکات سے حصہ نہیں دیتا۔ یہ مُہر علی قدرِ مراتب لگتی ہے۔ یہ نہیں کہ نا ہے۔ یہ نہیں کہ کفر کی وجہ سے لگے بلکہ جس طرح کفر کی شدت کی وجہ سے انسانی قلب پر مہر لگتی ہے اسی طرح کبھی ایمان کی قلت کی وجہ سے انسانی قلب پر مہر لگ جاتی ہے اور یہ مہر انسان کو اعلیٰ نیکی سے محروم کر دیتی ہے۔ تو جن لوگوں کو اس تحریک میں اب تک حصہ لینے کا موقع نہیں ملا خواہ کسی گناہ کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کو اس میں حصہ لینے سے محروم رکھا ہے اور خواہ سستی اور غفلت کی