خطبات محمود (جلد 21) — Page 44
1940ء 44 4 خطبات محمود بیت الذکر کی آبادی اور صفائی ( بیت احمد یہ ناصر آباد سندھ میں پہلا خطبہ جمعہ اور نماز ۔ فرمودہ یکم مارچ 1940ء) تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: استاد کا شاگرد پر اور شاگرد کا استاد پر ، والدین کا بچہ پر اور بچہ کا والدین پر حق ہوتا ہے ۔ اگر کوئی شخص جنگل میں مکان بناتا ہے تو دوسروں پر اس ہے۔ کا یہ حق ہے کہ اسے ٹوٹیں نہیں۔ اسی طرح مساجد کا حق ہے کہ انہیں آباد اور صاف رکھا جائے۔ اس میں بدبور دار چیز کے ساتھ نہیں آنا چاہیے۔ اگر اس بات پر عمل کیا جائے تو ہمارے دیہات میں صفائی پیدا ہو سکتی ہے۔ دیہاتی لوگ اس وقت تک بدن سے کپڑا نہیں اتارتے جب تک پھٹ نہ جائے حالانکہ ان کو دھو کر صاف کرتے رہنا چاہیئے۔ عرب کے لوگ خواہ امیر ہوں یا غریب، کپڑے صاف رکھتے ہیں۔ اب جبکہ مسجد بن گئی ہے اس کا حق ادا کرنا چاہئے ۔ آنحضرت صلی الم سے ایک نابینا شخص نے اجازت چاہی کہ وہ گھر میں نماز پڑھ لیا کرے مسجد آتے وقت ٹھوکریں لگتی ہیں۔ حضور نے فرمایا کہ اگر اذان سنائی دیتی ہے تو خواہ گھٹنوں کے بل آنا پڑے مسجد میں آیا کرو۔1 چونکہ زمینداروں نے باہر جا کر کام کرنا ہوتا ہے اس لئے وقت مقرر کر لینا چاہیے تا ان کے کام میں بھی حرج نہ ہو اور وہ نماز باجماعت بھی اد اکر سکیں ۔ “ (الفضل 6 مارچ 1940ء) 1 صحیح مسلم کتاب المساجد باب يجب اتيان المسجد على من سمع