خطبات محمود (جلد 21) — Page 417
1940ء 416 خطبات محمود دلوں پر اثر کرنے والی اور شبہات و وساوس کو دور کرنے والی ہوتی ہے۔ گزشتہ دنوں میں شملہ گیا تو ایک دوست نے بتایا کہ مولوی غلام رسول صاحب را جیکی یہاں آئے اور انہوں نے ایک جلسہ میں تقریر کی جو رات کے گیارہ ساڑھے گیارہ بجے ختم ہوئی۔ تقریر کے بعد ایک ہندو ان کی منتیں کر کے انہیں اپنے گھر لے گیا اور کہنے لگا کہ آپ ہمارے گھر چلیں آپ کی وجہ سے ہمارے گھر میں برکت نازل ہو گی۔ تو اللہ تعالیٰ نے کب ہمارا ساتھ چھوڑا ہے جو اب ہم اس کے متعلق بدگمانی کریں اور یہ خیال کریں کہ اگر کوئی شخص بیمار ہو جائے یا وفات پا جائے تو سلسلہ کا کام رک جائے گا۔ پس لجنہ اماء اللہ کو چاہیئے تھا کہ جب سیکرٹری بیمار ہوئی تھی تو فوراً کسی اور کو سیکر ٹری بنا لیا جاتا اور محلہ وار چندہ کی وصولی پر زیادہ زور دیا جاتا۔ عورتوں کے اندر سلسلہ کے متعلق جو اخلاص پایا جاتا ہے اس کے لحاظ سے کوئی بعید بات نہیں تھی کہ اگر وہ تندہی سے کام شروع کر دیتیں تو تحریک جدید کے چندہ کی وصولی میں مردوں سے بڑھ کر نہ رہتیں۔ مگر انہوں نے تو کل سے کام نہ لیا اور سمجھ لیا کہ چونکہ ان کی سیکرٹری بیمار ہے اس لئے انہیں اس کام میں بھی التواء ڈال دینا چاہئیے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ نیک نامی جو برابر پانچ سال سے ان کو حاصل ہو رہی تھی اس سال اس نیک نامی کے حصول سے وہ محروم رہیں۔ اسی طرح قادیان کے مردوں کو میں اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ ان کی چندہ تحریک جدید کی ادائیگی میں سستی بھی زیادہ تر کمی تو کل کی وجہ سے ہے۔ اس دفعہ لڑائی شروع تھی اس لئے لوگوں نے یہ خیال کر لیا کہ ہمیں اکٹھی کھانے پینے کی چیزیں خرید لینی چاہئیں تاکہ غلہ مہنگا نہ ہو جائے مگر واقعات نے بتا دیا کہ ان کے خیالات غلط ثابت ہوئے اور حقیقت تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جب تک ہماری جماعت کی حفاظت کرنا چاہتا ہے اُس وقت تک ہمیں یقین ہے کہ وہ ان خطرات کو دور رکھے گا اور کبھی ایسے حالات پیدا نہیں ہونے دے گا جو جماعت کو تباہ و برباد کرنے والے ہوں۔ اور اگر بالفرض کسی وقت ایسے خطرات پیدا ہو جائیں تو اس وقت ہمارے جمع کئے ہوئے غلے ہمارے کس کام آسکتے ہیں۔ وہ تو بہر حال دشمن کے ہی کام آئیں گے کیونکہ دشمن صرف روپیہ ہی نہیں بلکہ غلہ پر بھی قبضہ کیا کرتا ہے۔ جرمنی کے لوگ اس وقت