خطبات محمود (جلد 21) — Page 413
1940ء 412 خطبات محمود اڑھائی ماہ میں اس چندہ کی ادائیگی کی طرف توجہ کی اور جنہوں نے اپنے وعدوں کو پورا کر دیا ان کے لئے تو بے شک وقفہ ہو سکتا ہے مگر اب جو تحریک جماعت کے کارکن کریں گے اس کا بوجھ ان لوگوں پر پڑے گا جنہوں نے گیارہ مہینے غفلت سے گزار دیئے اور انہوں نے اپنے وعدوں کو پورا کرنے کا کوئی خیال نہ کیا۔ پس گیارہ مہینے دوسروں سے پیچھے رہ جانے کی وجہ سے وہ کسی آرام کے مستحق نہیں بلکہ اس بات کے مستحق ہیں کہ انہیں بیدار کیا جائے۔ مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ تحریک جدید کے چندہ میں قادیان کی جماعت کی وصولی نہ صرف پچھلے سال سے کم ہے بلکہ باہر کی کئی جماعتوں سے بھی کم ہے اور یہ پہلا سال ہے جس میں قادیان کی جماعت بعض دوسری جماعتوں سے پیچھے رہی۔ اس میں بہت سا دخل میری ایک بیوی کی بیماری کا بھی ہے جو لجنہ اماء اللہ کی سیکر ٹری ہیں اور جو بیمار رہنے کی وجہ سے ہی چندہ کی وصولی کا اہتمام نہیں کر سکیں۔ مگر میں اس بات کا قائل نہیں کہ کوئی زندہ جماعت ایسی بھی ہو سکتی ہے جس کے کسی کام کا انحصار صرف ایک آدمی پر ہو اور اگر وہ بیمار ہو جائے یا خدا نخواستہ فوت ہو جائے تو کام بند ہو جائے۔ اس وقت ہمیں جو کارکن میسر ہیں کیا ان کے متعلق کوئی بھی شخص کہہ سکتا ہے کہ وہ ہمیشہ زندہ رہیں گے ؟ اور جب وہ ہمیشہ زندہ نہیں رہیں گے تو کیا ان کی وفات کے بعد سلسلہ کا کام بند ہو جائے گا؟ زندہ سلسلہ کی علامت یہی ہوا کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس میں کام کرنے والے آدمی پیدا کرتا چلا جاتا ہے اور اس سلسلہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔ یہی وجہ ہے اللہ تعالیٰ انبیاء کی وفات کے بعد ان کے سلسلہ کو زیادہ ترقی دیتا ہے تا دنیا کو یہ بتائے کہ میرے سلسلہ کا انحصار انبیاء کے وجود پر بھی نہیں۔ حالانکہ خدا تعالیٰ کے دین کے لئے سب سے زیادہ قربانی کرنے والے انبیاء ہی ہوتے ہیں مگر خدا تعالیٰ یہ بتانے کے لئے کہ اس کے دین کی ترقی کا انحصار کسی شخص واحد کی ذات پر نہیں انبیاء کی وفات کے بعد ان کے قائم کردہ سلسلہ کو اور زیادہ ترقیات دینی شروع کر دیتا ہے۔ رسول کریم صلی علیم کو اپنے زمانہ میں بڑی کامیابی ہوئی مگر حضرت ابو بکر رضی اللہ اللہ عنہ عنہ کے زمانہ خلافت میں اس سے بھی زیادہ کامیابی ہوئی اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت میں الله س اس سے زیادہ۔ اس کے یہ معنی نہیں کہ ابو بکر اور عمر عمر نَعُوذُ بِالله رسول کریم صل اللام علیم سے