خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 377 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 377

1940ء 376 خطبات محمود کو نہ ملا جو روزہ دار تھے۔ اسی طرح اگر کوئی شخص میدان جہاد میں روزہ رکھ لیتا اور افطاری کے وقت پانی پی پی کر پیٹ بھر لیتا ہے اور کوئی کام کرنے کے قابل نہیں رہتا تو ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ روزہ رکھ کر اس نے نیکی کی بلکہ ہم کہیں گے کہ اس نے بدی کی کیونکہ ہر کام کا ایک موقع اور محل ہوتا ہے اور اگر ایک نیکی کسی دوسری نیکی میں روک بن جاتی ہے تو وہ نیکی یا تو بدی بن جاتی ہے یا ادنی درجہ کی نیکی کہلاتی ہے۔ وہاں چونکہ ابھی لڑائی شروع نہیں ہوئی تھی اس لئے رسول کریم صلی الم نے صرف اتنا فرمایا کہ روزہ داروں سے بے روز بڑھ گئے لیکن فرض کرو اگر اس وقت جہاد ہو رہا ہوتا اور مسلمانوں کو جاتے ہی کفار سے لڑائی کرنی پڑتی اور روزہ دار بوجہ روزہ رکھنے کے لڑائی میں شامل نہ ہو سکتے تو ان کا روزہ ان کے لئے گناہ بن جاتا۔ تو موقع اور محل ہوتا ہے جس کے ماتحت کوئی نیکی بڑھ جاتی ہے اور کوئی کم ہو جاتی ہے۔ اسی لئے رسول کریم صلی علی یم سے جب کوئی پوچھتا کہ میں نیکی کا کون سا کام کروں تو آپ ہمیشہ اس کے مناسب حال نیکی کا کام بتایا کرتے تھے۔ مثلا ایک نے پوچھا کہ سب سے بڑی نیکی کون سی ہے ؟ تو آپؐ نے فرمایا ماں کی خدمت۔ ایک اور نے پوچھا کہ سب سے بڑی نیکی کون سی ہے؟ تو آپ نے فرمایا نماز کا اپنے وقت پر ادا کرنا۔ 4 پھر تیسرے نے پوچھا کہ سب سے بڑی نیکی کون سی ہے؟ تو آپؐ نے فرمایا جہاد۔ 5 گویا کسی کو کچھ جواب دے دیا اور کسی کو کچھ ۔ اب ایک نادان تو یہ سمجھے گا کہ رسول کریم صلی الم نے نَعُوذُ بالله غلط جواب دیا۔ کسی کو کوئی بڑی نیکی بتا دی اور کسی کو کوئی۔ لیکن د یہ ہے کہ رسول کریم صلی الا یہ موقع اور محل دیکھ کر نیکی کی تعلیم دیا کرتے تھے۔ وہ حقیقت یہ شخص جسے آپ نے یہ فرمایا کہ تیرے لئے سب سے بڑی نیکی یہ ہے کہ تو اپنی ماں کی خدمت کیا کر ، ممکن ہے اس کی ماں بڑھیا ہو اور اس کی طبیعت ایسی ہو کہ بیوی بچوں کی طرف اسے زیادہ رغبت ہو اور ماں کی خدمت کو وہ کوئی زیادہ اہمیت نہ دیتا ہو۔ رسول کریم صلی اللہ ہم نے اس کے اس نقص کو دیکھ کر یہ فرما دیا کہ تمہارے لئے سب سے بڑی نیکی یہ ہے کہ تم اپنی ماں کی خدمت کیا کرو۔ اس کے مقابلہ میں ایک اور شخص تھا جو اپنی ماں سے تو محبت رکھتا تھا۔ آجکل بھی بعض لوگ اپنی ماؤں کے لئے جانیں دے دیتے ہیں، لیکن وہ جہاد میں جانے سے ہچکچاتا تھا۔ رسول کریم صلی الم نے اسے فرما دیا کہ تمہارے لئے لئے سب سے بڑی نیکی جہاد ہے۔ اسی طرح جو نماز س الله يسلم علوم