خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 36 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 36

خطبات محمود 36 1940ء اور یاد رکھو کہ جب تک جماعت دعاؤں پر یقین رکھے گی، جب تک تم ہر بات میں اللہ تعالیٰ سے امداد کے طالب رہو گے اس وقت تک تمہارے کاموں میں برکت رہے گی۔ مگر جس دن تم یہ سمجھو گے کہ یہ کام تم نے کیا، جس دن تم یہ سمجھو گے کہ یہ نتائج تمہاری محنت سے نکلے اور جس دن تم یہ سمجھو گے کہ یہ ترقی تمہاری کو ششوں کا نتیجہ ہے اس دن تمہارے کاموں سے برکتیں بھی جاتی رہیں گی۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ آج دنیا میں تم سے بہت زیادہ طاقتور قومیں موجود ہیں مگر ان سے کوئی نہیں ڈرتا اور تم سے سب لوگ ڈرتے ہیں۔ اس کی کیا وجہ ہے؟ اس کی وجہ یہی ہے کہ تمہاری مثال اس تار کی سی ہے جس کے پیچھے بجلی کی طاقت ہوتی ہے ۔ اب اگر تار یہ خیال کرے کہ لوگ مجھ سے ڈرتے ہیں تو یہ اس کی حماقت ہو گی کیونکہ لوگ تار سے نہیں بلکہ اس بجلی سے ڈرتے ہیں جو اس تار کے پیچھے ہوتی ہے۔ جب تک اس میں بجلی رہتی ہے ایک طاقتور آدمی بھی اگر تار پر ہاتھ رکھے تو وہ اس کے ہاتھ کو جلا دے گی لیکن اگر بجلی نہ رہے تو ایک کمزور انسان بھی اس تار کو توڑ پھوڑ سکتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق رکھو اور اس بجلی کو اپنے اندر سے نکلنے نہ دو بلکہ اسے بڑھاؤ اور ترقی دو۔ تبھی اور تبھی تم کامیابی کو دیکھ سکتے اور نئی فصل زیادہ شان اور زیادہ عمدگی کے ساتھ پیدا کر سکتے ہو لیکن اگر یہ بجلی نکل گئی تو پھر تم کچھ بھی نہیں رہو گے۔ ہاں اگر یہ بجلی رہی تو دنیا کی کوئی طاقت تمہارا مقابلہ نہیں کر سکے گی اور اس صورت میں تمہارا یہ عزم کہ تم اگلے پچاس سال میں تمام دنیا پر چھا جاؤ نا ممکن نہیں ہو گا کیونکہ کام خدا نے کرنا ہے اور خدا کے لئے کوئی چیز نا ممکن نہیں۔“ (الفضل 25 جنوری 1940ء) 1 الفاتحة : 5 2 بخاری کتاب التهجد باب قيام النبي عليا عليه والسلم الليل حتى ورم 32 :العلق 4 بخارى كتاب التعبير باب اول ما بدئ به 5 بخارى كتاب المظالم باب صب الخمر في الطريق 6 القدر : 4 صلى قدماه بخارى كتاب المناقب باب سؤال المشركين ان يربهم النبي عليه وسلم آية فأراهم