خطبات محمود (جلد 21) — Page 351
1940ء 350 خطبات محمود جلدی کرتا ہے اور وہ اپنے کام کو کل پر نہیں ڈالتا کیونکہ اسے ناکامی کا خوف ہوتا ہے۔ وہ یقینا اس کے رستے میں روکیں ڈالے گا۔ آجکل کس زور سے جنگ ہو رہی ہے۔ ہٹلر نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ ہمارے بادشاہوں کی ناکامی کی ایک وجہ یہ تھی کہ وہ دیر سے تیاریاں کرتے رہتے تھے اور مخالف بھی ان تیاریوں کو دیکھ کر تیاری کرتا تھا۔ حالانکہ تیاری فوری ہونی چاہیے اور حملہ اچانک ہونا چاہیے۔ اسی خیال کے ماتحت اس نے اپنی قوم کو ترقی دی۔ چنانچہ 1934ء سے لے کر پانچ سال کے عرصہ میں اس قدر جلدی ترقی دی کہ آدمی حیران ہو جاتا ہے۔ اب وہ چاہے ناکام ہو جائے لیکن اس کی تیاری ایسی ہے اور حملہ ایسا اچانک ہے کہ آج الہی علم کے بغیر کوئی شخص یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ انگریز جیتیں گے۔ ایک معمولی انسان اٹھا اور کس طرح جلدی جلدی اس نے اپنی قوم کو تیاری کرادی۔ حَيَّ عَلَی الْفَلَاح میں یہی بتایا گیا ہے کہ اگر کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہو تو جلدی کرو۔ آج کا کام کل پر نہ چھوڑو۔ بعض دفعہ شیطان وسوسہ ڈال دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربانیاں کرنے سے روک دیتا ہے اور اس طرح انسان کئی نیکیوں سے محروم رہ جاتا ہے۔ پس کامیابی کے حصول کا ایک گر یہ ہے کہ فوری طور پر نیکی کرو۔ جب خدا تعالیٰ کے ساتھ تعلق کے لحاظ سے اس گھر پر عمل کرناضروری ہے تو بندوں کے ساتھ سلوک میں اس سے بھی زیادہ احتیاط سے اس گھر کے استعمال کی ضرورت ہے۔ چنانچہ مسلمان چاہتے تھے کہ مکہ پر فتح پائیں اور کفار بھی مسلمانوں کو گرانا چاہتے تھے اور وہ بھی تیاریاں کر رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا جدھر سے بھی تم نکلو اپنی توجہ مکہ کی طرف رکھو 2 یعنی اگر فتح پانا چاہتے ہو تو اپنے خیالات کا مرکز فتح مکہ بنالو۔ تب جو جوش تمہارے اس ارادہ میں پیدا ہو گا تم کو فاتح بنادے گا۔ مسلمانوں نے اس پر عمل کیا اور نتیجہ یہ ہوا کہ وہ غالب آئے اپنی قربانیوں اور ایثار کی وجہ سے۔ انہیں مقصود کی محبت تھی وہ بے پرواہ ہو کر لڑے، بے تاب اور والہانہ جوش کے ساتھ لڑے اور غالب آئے۔ پس اسلام سکھاتا ہے کہ وقت ضائع نہ کرو اور جب کوشش کرو تو بے تابانہ کرو، والہانہ کرو اور بے پرواہ ہو کر کرو۔ اور اس بات کو مت بھولو کہ دشمن بھی تیاری کر رہا ہے۔