خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 348 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 348

1940ء 347 25 خطبات محمود اذان کے پر حکمت کلمات میں کامیابی کے دو عظیم الشان گر (فرموده 20 ستمبر 1940ء بمقام شملہ ) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں جہاں قرآن کریم کے دوسرے محاسن بیان کئے ہیں وہاں یہ بھی فرمایا ہے فقر انا عربيا 1 کہ یہ عربی قرآن ہے۔ عربی کے معنی فصیح کے بھی ہیں اور إِنَّا عَرَبِيًّا یہ عربی زبان کا نام بھی ہے۔ کسی زبان میں کسی کلام کا اتر نا بجائے خود کوئی فضیلت نہیں رکھتا۔ ایک بات کو پیش کرنے والے اور اس قوم کی جس کے سامنے وہ بات پیش کی جارہی ہے اگر وہی زبان ہو تو اس زبان میں بولنا مجبوری ہے۔ مثلاً انگریز انگریزی دان طبقے کے سامنے انگریزی میں تقریر کرے تو یہ کوئی خوبی کی بات نہیں۔ اسی طرح مرُ إِنَّا عَرَبِيًّا میں اگر عربی کے لفظ کو عربی زبان کی حد تک دیکھیں تو یہ لفظ کوئی خاص خوبی نہیں رکھتا۔ اس لئے یہ لفظ یہاں فصاحت کے معنوں میں استعمال کیا گیا ہے لیکن عربی کو مد نظر رکھتے ہوئے اس کے دونوں معنے ہیں اور یہ بھی ایک خوبی ہے۔ عربی میں نام خصوصیتوں کے لحاظ سے ہوتے ہیں اور محض علامت نہیں بلکہ وصف پر دلالت کرتے ہیں۔ اسی طرح عربی کا نام ہے یہ صرف نام نہیں بلکہ اس میں بتایا گیا ہے کہ یہ ایک فصیح زبان ہے۔ یہ صرف عربی کی خصوصیت ہے کہ یہ اپنے مطالب خود