خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 346 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 346

1940ء 345 خطبات محمود مردوں سے اپنی لڑکیوں کو نہیں بیاہتے سوائے اس کے کہ وہ بہت مالدار ہوں اور گاؤں کے رہنے والوں سے تو شادی کرتے ہی نہیں مگر پھر بھی یہ شادی ہو گئی۔ اسی طرح اور بھی کئی مثالیں مل سکتی ہیں اور تیرہ سو سال میں تو یقینا ایسی لاکھوں مثالیں موجود ہوں گی مگر ان لاکھوں میں سے کوئی بھی عائشہ نہیں کہلا سکتی کیونکہ عائشہ ان قربانیوں کی وجہ سے عائشہ بنی تھی جو اس نے دین کے سیکھنے اور دوسروں کو سکھانے کے لئے کیں اور وہ عائشہ اس وجہ سے کہلائی کہ امت محمدیہ نے اس سے نصف دین سیکھا۔ کیا ہی وہ سمجھ دار عورت تھی اور کیسا شاندار اس کا بلند علمی مقام تھا کہ حضرت جعفر کی شہادت پر جب رسول کریم صلی علیم نے ایک درد کی حالت رض رض الله میں فرمایا کہ جعفر پر تو رونے والا بھی کوئی نہیں تو صحابہ اپنے اپنے گھروں کو گئے اور انہوں نے الله س عورتوں سے کہا کہ اپنے مردوں پر رونا چھوڑو اور جعفر کے گھر جا کر روڈ کیونکہ رسول کریم صلی الیم نے فرمایا ہے کہ جعفر پر تو رونے والا بھی کوئی نہیں۔ اس پر مدینہ کی تمام عورتیں جعفر کے گھر اکٹھی ہو گئیں اور انہوں نے بین ڈالنے شروع کر دیے۔ رسول کریم صلی اللہ ہم نے سنا تو فرمایا کیا ہوا؟ صحابہ نے عرض کیا آپ نے جو فرمایا تھا کہ جعفر پر رونے والا بھی کوئی نہیں ہم نے اپنی عورتوں کو جعفر کے گھر بھیج دیا ہے اور سب مل کر رو رہی ہیں۔ آپؐ نے فرمایا جاؤ اور ان کو رو کو میرا اس سے یہ منشاء نہیں تھا۔ ایک صحابی گیا اور اس نے ان عورتوں کو رونے سے منع کیا مگر وہ کب رکھنے والی تھیں۔ انہوں نے کہا تم ہمیں کون منع کرنے والے آئے ہو ؟ رسول کریم صل العالم نے خود یہ فرمایا ہے کہ جعفر پر تو رونے والا بھی کوئی نہیں۔ اس نے جب دیکھا کہ وہ کسی طرح خاموش ہونے میں نہیں آتیں تو وہ پھر رسول کریم صلی علی ایم کے پاس آیا اور کہنے لگا يَا رَسُولَ الله وہ تو خاموش نہیں ہوتیں۔ آپؐ نے فرمایا ڈالو ان کے مونہوں پر مٹی۔ مطلب یہ تھا کہ تم انہیں ان کے حال پر رہنے دو۔ وہ خود ہی رو دھو کر خاموش ہو جائیں گی مگر اس صحابی نے اپنی جھولی میں مٹی بھر لی اور جاکر ان عورتوں کے منہ پر ڈالنا شروع کر دی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو اس کا علم ہوا تو آپ نے اسے سختی سے روکا اور فرمایا تمہیں شرم نہیں آتی کہ تم ان عورتوں کے منہ پر مٹی ڈال رہے ہو۔ اس نے کہار سول اللہ صلی الم نے فرمایا ہے کہ ان کے منہ پر مٹی ڈالو۔ آپؐ نے فرمایا تم نے رسول کریم صلی ایم کا مطلب نہیں سمجھا۔ آپ کا تو یہ مطلب ہے س