خطبات محمود (جلد 21) — Page 344
1940ء 343 خطبات محمود اٹکائیں۔ پس جہاں ان کے راستہ میں لوگوں کی طرف سے رکاوٹیں ڈالی گئیں انہیں میں نے نہایت ہی ناپسند کیا۔ وہاں میں نے اس بات پر بھی نہایت برا منایا کہ کوئی نوجوان لڑکی کسی س علیم نے بڑھے سے شادی کر کے اپنے آپ کو عائشہ قرار دے لے کیونکہ عائشہ اس وجہ سے عائشہ نہیں کہ انہوں کم انے محمد صلی اللی علمی سے شادی کی بلکہ اس وجہ سے عائد سے عائشہ نہیں کہ رسول کہ رسول کریم صلی الله یم اپنی امت سے فرمایا کہ تم آدھا دین عائشہ سے سیکھو ۔ 5 ہم تو کسی کو عائشہ کہلانے سے نہیں روک سکتے۔ اگر کوئی عورت ہمیں عائشہ کی طرح آدھا دین سکھا دے تو ہم تو سار ادن اسے عائشہ ، عائشہ کہتے رہیں گے لیکن جب کسی کو دین کی واقفیت نہ نہ ہو اور نہ یہ رتبہ اور مقام اسے حاصل ہو اور پھر وہ عائشہ سے اپنی نسبت قرار دے دے تو یہ عائشہ کی ہتک تو کیا ہو گی البتہ اس بات کا ایک ثبوت ہو گا کہ ایسے معاملات میں نہایت دیدہ دلیری سے بات کی جاتی ہے در حقیقت ایسی ہی باتیں ہوتی ہیں جن سے دشمن کو بعض دفعہ سلسلہ پر اعتراض کرنے کا موقع ہاتھ آجاتا ہے اور خود بھی انسانی قلب پر زنگ لگ جاتا ہے۔ مجھے یاد ہے ایک دفعہ ایک دوست کی کسی دوسرے دوست سے کسی مسئلہ پر بحث ہوئی۔ باتوں باتوں میں وہ نہایت جوش سے کہنے لگے کہ میں نے اپنی تمام زندگی تمہارے اندر گزاری ہے کیا تم مجھ پر کوئی بھی الزام لگا سکتے ہو ؟ یہ حضرت خلیفہ اول کے زمانہ کی بات ہے۔ میں نے جب یہ بات سنی تو میں نے انہیں کہا کہ یہ معیار تو محمد صلی علی ایم کی صداقت کا خدا تعالیٰ نے پیش کیا ہے کیونکہ آپ کی تمام زندگی لوگوں کے سامنے گزری تھی اور انہیں معلوم تھا کہ آپ کیا کیا کرتے تھے مگر تمہاری زندگی کا کتنے لوگ مطالعہ کرتے رہے ہیں۔ تمہارے تو شاید ہمسائے بھی نہیں جانتے ہوں گے کہ تم کیسی زندگی بسر کرتے ہو ؟ پس جبکہ تمہاری زندگی کا آج تک کسی نے مطالعہ ہی نہیں کیا تو تم لوگوں کو کس طرح چیلنج دے سکتے ہو کہ میں نے اپنی زندگی تم میں گزاری ہے کیا تم کوئی الزام مجھ پر لگا سکتے ہو ؟ یہ تو ایسی ہی بات ہے جیسے ایک پردہ کے پیچھے بیٹھا ہوا انسان کہنا شروع کر دے کہ کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ میں کالا ہوں۔ اب ہمیں کیا معلوم کہ وہ کالا ہے یا گورا ہے۔ وہ پردہ سے نکلے تو اس کے متعلق کوئی رائے قائم کی جاسکتی ہے۔ اسی طرح جس شخص کی زندگی تاریکی کے پردوں میں چھپی ہوئی ہو وہ یہ دعویٰ کس طرح کر سکتا