خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 342 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 342

1940ء 341 خطبات محمود بہت سے کام سر انجام دیتی ہے۔ اگر شادی صرف شہوانی ضروریات کے لئے ہی کی جاتی ہے تو کیا لوگ یہ پسند کریں گے کہ ان کی بیویاں رات کو صرف ایک گھنٹہ کے لئے ان کے پاس آجایا کریں اور پھر چلی جایا کریں۔ اگر شہوانی ضرورتوں کے لئے ہی شادی ہوتی ہے تو پھر بیوی کا مرد کے پاس رات کو صرف ایک گھنٹے کے لئے آجانا کافی ہے بلکہ وہ لوگ جن میں یہ قوت نسبتا کم ہوتی ہے ان کے لئے تو صرف اتنا ہی کافی ہو سکتا ہے کہ ہفتہ میں ایک دفعہ بیوی ان کے پاس ایک گھنٹہ کے لئے آجائے مگر کیا کوئی بھی شخص یہ پسند کرتا ہے کہ اس کی بیوی ہفتہ میں صرف ایک گھنٹہ کے لئے اس کے پاس آئے اور باقی اوقات اوقات میں میں ا اس کے پاس نہ رہے۔ ۔ اگر ا نہیں تو معلوم ہوا کہ شادی صرف شہوانی ضروریات کے لئے ہی نہیں کی جاتی بلکہ اس کے اور بھی بہت سے فوائد ہیں۔ ہمارے ملک میں بھی جب کوئی شخص شادی کا خواہشمند ہو تو یہ نہیں کہا کرتا کہ شہوانی ضرورت کے لئے میں شادی کرنا چاہتا ہوں بلکہ وہ یہی کہا کرتا ہے کہ “روٹی ٹک ” کی بڑی تکلیف ہے ، کہیں رشتہ ہو جائے تو بڑی اچھی بات ہے۔ شہوانی ضرورت کا وہ نام تک نہیں لیتا۔ پس جبکہ ہمارے ملک میں شادی کی ہی اس لئے جاتی ہے کہ روٹی ٹیک کی تکلیف نہ ہو تو کیا بڑھوں کو روٹی ٹک کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ اگر ہم غور سے کام لیں تو بڑھے کو تو روٹی ٹک کی زیادہ تکلیف ہوئی ہوتی ہے کیونکہ وہ اس بات کا محتاج ہوتا ہے کہ اس کے لئے ایسے نرم نرم ؟ نرم نرم پھلکے پکیں جو آسانی سے حلق سے نیچے اتر جائیں۔ اسی طرح وہ کبھی حلوہ چاہتا ہے اور کبھی کھچڑی خشکا اور اسے اس بات کی ضرورت ہوتی ہے کہ گھر میں کوئی روٹی پکانے والی ہو۔ پس یہ ایسی احمقانہ بات تھی کہ جب میرے پاس پہنچی تو میں نے اسے نہایت ہی حقارت کی نگاہ سے دیکھا۔ بے شک اگر کوئی بڑھا کسی لڑکی پر لڑکی پر دباؤ ڈال کر جبرا اس سے شادی کرتا ہے تو یہ قابل اعتراض امر ہے لیکن اگر ایک عورت یہ سمجھتی ہے ہے کہ وہ ایک بڑھے آدمی کے ساتھ آسانی سے گزارہ کر سکے گی تو اس سے زیادہ کمینہ اور کون شخص ہو سکتا ہے جو یہ کہے کہ بڑھے کو شادی کی کیا ضرورت ہے ؟ یہ عورت کا کام ہے کہ وہ یہ فیصلہ کرے کہ وہ ایک بڑھے کے ساتھ گزارہ کر سکتی ہے یا نہیں اور اگر وہ اس بات کا فیصلہ کر لیتی ہے کہ وہ بڑھے کے ساتھ گزارہ کر سکتی ہے تو اسے شادی سے روکنا نہ صرف حماقت ہو گی بلکہ لوگوں میں بد اخلاقی اور بے دینی پیدا کرنے ی اور