خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 334 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 334

1940ء 333 خطبات محمود میں نو کر نہیں ہونا چاہتا اور چاہے یہ کہے کہ جو تنخواہ آپ دیتے ہیں وہ مجھے منظور نہیں۔ اسے کوئی گناہ نہیں ہو گا کیونکہ شریعت نے ان معاملات میں اسے آزادی بخشی ہے۔ یا فرض کرو میں اپنا مکان بنانے کے لئے کسی دوست سے کوئی زمین خریدنا چاہتا ہوں تو ہر شخص کا حق ہے کہ وہ اگر چاہے تو انکار کر دے مثلاً یہی کہہ دے کہ جو قیمت آپ دینا چاہتے ہیں اس پر میں زمین فروخت کرنے کے لئے تیار نہیں یا یہ کہہ دے کہ میں زمین بیچنا ہی نہیں چاہتا۔ بہر حال یہ اس کا حق ہے جسے وہ استعمال کر سکتا ہے۔ یہی حال اولی الامر کا ہے۔ ہماری جماعت میں بھی کچھ ناظر ہیں اور کچھ ناظروں کے ماتحت عہدیدار مقرر ہیں۔ ان ناظروں اور عہدہ داروں کو بھی وہی محدود اختیارات حاصل ہیں جو جماعتی نظام سے تعلق رکھتے ہیں۔ جہاں ایسے کاموں کا سوال آجائے گا جو نظام جماعت سے تعلق نہیں رکھتے وہاں اگر بعض لوگ ان کے کرنے سے انکار کر دیں تو یہ ان کا حق سمجھا جائے گا۔ مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ میرے پاس ایسی رپورٹیں پہنچتی رہتی ہیں کہ بعض آدمی ذاتی کام لیتے وقت اپنے عہدہ کے جتانے کے عادی ہیں اور وہ بات کرتے وقت دوسروں سے کہہ دیتے ہیں کہ تم جانتے ہو میں کون ہوں۔ میں ناظر امور عامہ ہوں یا ناظر تعلیم و تربیت ہوں یا ناظر اعلیٰ ہوں یا فلاں عہدے دار ہوں۔ اس قسم کے الفاظ کا دہرانا یقینا اس ذمہ داری کے ادا کرنے کے خلاف ہے جس کا اسلام ان سے مطالبہ کرتا ہے۔ ہر شخص جسے خدا نے بعض معاملات میں آزادی دے رکھی ہے اس کے متعلق ہم یہ حق نہیں رکھتے کہ اس کی آزادی کو سلب کریں۔ رسول کریم صلی علیم کی مثال موجود ہے۔ آپ نے ذاتی معاملات میں کبھی دخل نہیں دیا۔ آپ نے بریرہ سے یہ نہیں کہا کہ میں خدا کا رسول ہوں۔ تم میری بات مان لو بلکہ فرمایا کہ یہ میرا ذاتی مشورہ ہے، اسے ماننا یا نہ ماننا تمہارے اختیار کی بات ہے۔ اسی طرح بعض سودے ہوئے جن کے متعلق آپ نے صحابہؓ سے یہی فرمایا کہ لوگوں سے مشورہ کر لو اور جو کچھ صحیح سمجھو اس کے مطابق کام کرو۔ رض تو جماعت کے ذمہ دار کارکنوں کو میں ہدایت کرتا ہوں کہ وہ اپنے عہدے لوگوں کو ڈرانے کے لئے استعمال نہ کیا کریں۔ جو شخص کسی جھگڑے کے موقع پر یہ کہتا ہے کہ تم جانتے