خطبات محمود (جلد 21) — Page 32
1940ء 32 خطبات محمود کھولا تھا اور اپنے دل کو میرا گھر بنایا تھا اسی طرح آج میں تجھ کو اپنے گھر میں بلاتا ہوں آ اور میرے پاس بیٹھ ۔ پس خدا اس کو اپنے پاس بلا لیتا اور وہ دنیا کی تکلیفوں اور شورشوں سے آزاد ہو جاتا ہے۔ اس نبی کے بلائے جانے کے بعد دنیا میں جو بیج بوئے ہوئے ہوتے ہیں وہ پھر نئی جد وجہد شروع کر دیتے ہیں۔ نبوت خلافت کا جامہ پہن لیتی ہے اور خلافت کے ذریعہ پھر خدا کے لئے نئے قلوب کی فتح شروع ہو جاتی ہے۔ یہی اس زمانہ میں ہوا اور جب ہم نے ایک جشن منایا، ایک خوشی کی تقریب سر انجام دی تو کسان کی زبان میں ہم نے یہ کہا کہ ہم نے پہلی فصل کاٹ لی مگر کیا جانتے ہو کہ دوسرے لفظوں میں ہم نے کیا کہا ؟ دوسرے لفظوں میں ہم نے یہ کہا کہ آج سے پچاس سال پہلے جو ایک بیج بویا گیا تھا اس پیج کی فصل ہم نے کاٹ لی۔ اب ہم ان بیجوں سے جو پہلی فصل سے تیار ہوئے تھے ایک نئی فصل بونے لگے ہیں۔ اس عظیم الشان کام کے آغاز کے بعد تم سمجھ سکتے ہو کہ تم پر کتنی عظیم الشان ذمہ داریاں عائد ہو گئی ہیں۔ تم نے اب اپنے اوپر یہ ذمہ داری عائد کی ہے کہ جس طرح ایک بیج بڑھ کر اتنی بڑی فصل ہو گیا اسی طرح اب تم ان بیجوں کو بڑھاؤ گے جو اس فصل پر تم نے بوئے ہیں اور اسی رنگ میں بڑھاؤ گے جس رنگ میں پہلی فصل بڑھی۔ پس ہم نے جشن مسرت منا کر اس بات کا اعلان کیا ہے کہ جس طرح ایک پیج سے لاکھوں نئے بیج پیدا ہو گئے تھے اسی طرح اب ہم ان لاکھوں بیجوں کو از سر نو زمین میں ہوتے ہیں۔ جس کے معنے یہ ہیں کہ پچھلے پچیس یا پچاس سال میں جس طرح سلسلہ نے ترقی کی ہے اسی طرح اتنے ہی گنے اگلے پچیس یا پچاس سال میں ہم آج کی جماعت کو بڑھا دیں گے۔ یہ کوئی معمولی ذمہ داری نہیں جو تم نے اپنے اوپر عائد کی۔ گزشتہ پچاس سال میں ایک بیچ سے لاکھوں بیچ بنے تھے۔ اب جب تک اگلے پچاس سال میں ان لاکھوں سے کروڑوں نہیں بنیں گے اس وقت تک ہم اپنی ذمہ داری سے سبکدوش نہیں سمجھے جائیں گے۔ اگر ہم جشن نہ مناتے ، اگر ہم یہ نہ کہتے کہ الْحَمْدُ لِلہ کہنے کا زمانہ آگیا تو ہم إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِین کا زمانہ بھی پیچھے ڈال سکتے تھے مگر جب ہم نے جشن منا لیا اور پہلی فصل کاٹ لی تو بالفاظ دیگر ہم نے دوسری فصل کو بو دیا اور ہمارا کام از سر نو شروع ہو گیا اور جبکہ ایک بیج سے اتنے