خطبات محمود (جلد 21) — Page 289
1940ء 288 خطبات محمود رض موقع مل جاتا ہے۔ جیسا کہ صحابہؓ کے زمانہ میں حضرت علیؓ کی خلافت کے عہد میں ہوا۔ پس میں نے اپنے آپ کو تھوڑا دنیا کی اور اقوام کے مقابلہ میں قرار دیا ہے اور میں نے یہ نہیں کہا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت قلیل رہ جائے گی کیونکہ جب تک جماعت کے دلوں میں نور ایمان باقی ہے یہ نا ممکن ہے کہ اس کی اکثریت بگڑ جائے۔ پھسلنے والے پھیلیں گے، گرنے والے گریں گے اور جدا ہونے والے جدا ہوں گے مگر اکثریت پھر بھی ہمارے ساتھ ہی رہے گی۔ پس پیغامی یا ان کے گماشتے مصری میرے ان الفاظ سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔ اکثریت : ربیت ہمارے ساتھ ۔ ساتھ ہے اور انشاء الله اء اللہ ہمیشہ ہمارے ساتھ رہے ساتھ رہے گی۔ اگر بعض منافق یا کمزور طبع لوگ اپنی ایمانی کمزوری کا ثبوت دیتے ہوئے ہم سے الگ ہو جائیں تو وہ پھر بھی اکثریت قرار نہیں پائیں گے بلکہ اکثریت ہمارے ساتھ رہے گی اور وہ ہمارے مقابلہ میں تھوڑے ہی رہیں گے کیونکہ نبیوں کی جماعتوں کے اندر شروع زمانہ میں منافق اور فتنہ و فساد پیدا کرنے والے لوگ تھوڑے ہوتے ہیں اور مومن زیادہ ہوتے ہیں۔ پس جب میں اپنے متعلق تھوڑے کا لفظ بولتا ہوں تو اس سے مراد یہ نہیں ہوتی کہ ہم احمدی کہلانے والوں کے مقابلہ میں تھوڑے ہیں بلکہ غیر اقوام مراد ہوتی ہیں اور میرا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہم ان کے مقابلہ میں بالکل قلیل ہیں لیکن احمدی کہلانے والے غیر مبائعین کے مقابلہ میں ہم زیادہ ہیں اور زیادہ ہی رہیں گے۔ انشاء الله پس میں اس خطبہ کے ذریعہ جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جو پوزیشن ہم نے دیانتداری کے ساتھ تسلیم کی ہوئی ہے ہمیں اس کے مطابق اپنے اعمال میں بھی تغیر پیدا کرنا چاہیے۔ اسی طرح صحابہؓ کی جو پوزیشن ہمارے نزدیک مسلم ہے وہی پوزیشن ہمیں اختیار کرنی چاہیے۔ صحابہ کی پوزیشن یہ تھی کہ انہیں حکم دیا جاتا اور وہ فوراً اطاعت کے لئے کھڑے ہو جاتے اور یہی پوزیشن ہماری ہونی چاہیے۔ جو شخص یہ پوزیشن اختیار نہیں کر تا ہم یہ تسلیم نہیں کر سکتے کہ وہ لہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو امتی نبی مانتا ہے کیونکہ امتی نبی ماننے کا یہ لازمی نتیجہ ہے کہ جو کچھ صحابہ رض نے کیا وہی ہم کریں اور اگر کوئی شخص صحابہؓ کے سے کام نہیں کرتا تو اس کے متعلق یہی کہا رض