خطبات محمود (جلد 21) — Page 280
1940ء 279 خطبات محمود بلکہ تعلیم قرآن کے کام سے گریز کرتا ہے وہ اس سے گریز نہیں کرتا بلکہ احمدیت سے گریز کرتا ہے۔ ہر شخص جو تبلیغ سے گریز کرتا ہے وہ تبلیغ سے گریز نہیں کرتا بلکہ احمدیت سے گریز کرتا ہے۔ ہر شخص جو دوسروں کی تربیت سے گریز کرتا ہے وہ تربیت کرنے سے گریز نہیں کرتا بلکہ احمدیت سے گریز کرتا ہے۔ ہر شخص جو شرائع کی حکمتیں بتانے سے گریز کرتا ہے وہ شرائع کی حکمتیں بتانے سے گریز نہیں کرتا بلکہ وہ احمدیت سے گریز کرتا ہے اور ہر شخص جو تزکیہ نفوس یا جماعت کی اقتصادی اور مالی ترقی کی تجاویز میں حصہ لینے سے گریز کرتا ہے وہ تزکیہ نفوس یا جماعت کی اقتصادی اور مالی ترقی کی تجاویز میں حصہ لینے سے گریز نہیں کرتا بلکہ احمدیت سے گریز کرتا ہے۔ ایسے شخص کی نہ احمدیت کو کوئی ضرورت ہو سکتی ہے اور نہ اس کے لئے کوئی وجہ ہے کہ وہ احمدیت میں داخل رہے۔ وہ یہ کہہ کر کہ وہ احمدی ہے اپنے نفس کو دھوکا دیتا ہے یا اگر اپنے نفس کو دھوکا نہیں دیتا تو جھوٹا اور مکار ہے اور ہر گز اس قابل نہیں کہ وہ مومنوں کی جماعت میں شامل رہ سکے۔ یہ پانچ کام ضروری ہیں اور جماعت کے ہر فرد کو ان میں حصہ لینا پڑے گا اور جب تک وہ طو عما یا کر تھا ان کاموں میں حصہ نہیں لیں گے وہ کبھی صحیح معنوں میں صحابہؓ کے مثیل نہیں کہلا سکیں گے۔ آخر تمہیں غور کرنا چاہیئے کہ کیا صحابہ اپنی مرضی سے ہی تمام کام کیا کرتے تھے؟ وہ اپنی مرضی سے کوئی کام نہیں کرتے تھے بلکہ رسول کریم صلی تعلیم کے احکام کی متابعت میں تمام کام کرتے تھے۔ رسول کریم صلی اعلام فرماتے تھے جہاد کے لئے چلو اور سب چل پڑتے تھے اور جو نہ چلتا تھا اسے جبری طور پر لے جایا جاتا تھا۔ میں نے چاہا تھا کہ طوعی طور پر جماعت کو ان قربانیوں میں حصہ لینے کے لئے آمادہ کیا جائے مگر معلوم ہوتا ہے ساری جماعت طوعی طور پر قربانی کرنے کے لئے تیار نہیں بلکہ اس کا ایک حصہ منافقوں پر مشتمل ہے اور وہ ہمیں اس بات پر مجبور کر رہا ہے کہ ہم اسے اپنی جماعت میں سے خارج کر دیں یا اگر وہ منافق نہیں تو ایسے کو دن لوگ ہیں جو ڈنڈے کے محتاج ہیں اور جیسے جیسے رسول کریم صلی علیم نے ان لوگوں کو سزا دی تھی جو جو جو جہاد کے لئے نہیں گئے تھے اسی طرح وہ بھی چاہتے ہیں کہ انہیں سزادی جائے اور جبراً ان سے احکام کی تعمیل کرائی جائے۔ ڈنڈے سے میری مراد سوٹا نہیں بلکہ جبر اور حکم مراد ہے۔ بہر حال ان لوگوں نے مجھے مجبور