خطبات محمود (جلد 21) — Page 275
1940ء 274 خطبات محمود کہتے ہیں کسی شتر مرغ سے کسی نے کہا کہ آؤ تم پر اسباب لادیں کیونکہ تم شتر ہو (شتر کے معنی اونٹ ہیں اور مرغ کے معنی ہیں پرندہ) وہ کہنے لگا کیا پرندوں پر بھی کسی نے اسباب لادا ہے ؟ اس نے کہا اچھا تو پھر اڑ کر دکھاؤ کہنے لگا کبھی اونٹ بھی اڑا کرتے ہیں؟ پس جس طرح شتر مرغ اڑنے کے وقت اونٹ بن جاتا ہے اور اسباب لادتے وقت پرندہ اسی طرح ہماری جماعت کا جو حصہ کمزور ہے کرتا ہے۔ یعنی جب قربانی کا وقت آتا ہے تو وہ کہتا ہے ہمارا حال اور سُبْحَانَ الله ہے اور صحابہ کا حال اور مگر جب درجوں اور انعامات اور جنت کی نعماء کا سوال آتا ہے تو کہتا ہے ان الله حضرت صاحب تو رسول کریم صلی علیم کے ظل تھے۔ پس جو حال صحابہ کا وہی حال ہمارا۔ میں نے پہلے بھی بتایا ہے کہ کوئی پور بیا مر گیا تھا۔ پوربیے عام طور پر دھوبی ہوتے ہیں۔ اس کی عورت نے باقی دھوبیوں کو اطلاع دی اور سب اکٹھے ہو گئے۔ رسم و رواج کے مطابق عورت نے ان سب کے سامنے رونا پیٹنا شروع کر دیا۔ ان میں طریق یہ ہے کہ جب کوئی مر جاتا ہے تو عورتیں اور لڑکیاں اکٹھی ہو کر پیٹتی ہیں اور مرد انہیں تسلی دیتے ہیں۔ اس پوربیے کی عورت نے بھی رونا پیٹنا شروع کر دیا اور روتے روتے اس قسم کی باتیں شروع کیں کہ ارے اس نے فلاں جگہ سے اتنا روپیہ لینا تھا اسے اب کون وصول کرے گا۔ ایک پوربیا آگے بڑھ کر کہنے لگا اری ہم ری ہم ۔ وہ کہنے لگی ارے اس نے ادھیارے پر گائے دی ہوئی تھی اب اسے کون لائے گا ؟ وہی پور بیا پھر بولا اور کہنے لگا اری ہم ری ہم ۔ پھر وہ روئی اور کہنے لگی ارے اس کی تین ماہ کی تنخواہ مالک کے ذمہ تھی اب وہ کون وصول کرے گا؟ وہ پور بیا پھر آگے بڑھا اور کہنے لگا اری ہم ری ہم ۔ پھر وہ عورت رو کر کہنے لگی ارے اس نے فلاں کا دو سو روپیہ قرض دینا تھا اب وہ قرض کون دے گا؟ اس پر وہ پور بیا باقی قوم کی طرف مخاطب ہو کر کہنے لگا ارے بھئی میں ہی بولتا جاؤں گا یا برادری میں سے کوئی اور بھی بولے گا۔ ان کمزور احمدیوں کی بھی یہی حالت ہے۔ جہاں جنت کی نعماء اور مدارج کا سوال آتا ہے وہاں تو کہتے ہیں ارے ہم رے ہم مگر جب یہ کہا جاتا ہے کہ صحابہؓ نے بھی قربانیاں کی تھیں تم بھی قربانیاں کرو تو کہنے رض لگ جاتے ہیں کہ ہم ہی بولتے جائیں یا برادری میں سے کوئی اور بھی بولے گا؟ یہ حالت بالکل غیر معقول ہے اور اسے کسی صورت میں برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ اگر حضرت مسیح موعود