خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 268 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 268

1940ء 267 خطبات محمود تصدیق ہے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس دعا کی کہ وَمِنْ ذُریتی یعنی میری ذریت میں سے بھی ایسے لوگ ہونے چاہئیں ورنہ دنیا کی ہدایت قائم نہیں رہ سکتی۔ تو حضرت عیسی علیہ السلام کا بیان ایک اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا دو۔ یہ اس بات کے شاہد ہیں جو قرآن کریم میں بیان ہوئی کہ دنیا میں ہدایت کے قیام کے لئے متواتر اماموں کا ہونا ضروری ہے۔ جب متواتر اماموں کا ہونا ضروری ہے اور اس کے بغیر ہدایت قائم نہیں رہ سکتی تو پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس دعا کے یہی معنی ہوئے کہ رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولًا مِنْهُمُ اے میرے رب ان میں ایک رسول بھیج۔ پھر تو انہیں یہ دعا مانگنی چاہیے تھی کہ رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رُسُلًا مِنْهُمْ يَتْلُوْنَ عَلَيْهِمْ أَيْتِكَ وَيُعَلِّمُونَهُمُ الْكِتَبَ وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكُونَهُمْ اے میرے رب ان میں بہت سے انبیاء بھیجیٹو جو تیری آیتیں پڑھ پڑھ کر انہیں سنائیں اور تیری شریعت کے احکام اور ان کی حکمتیں انہیں بتائیں اور انہیں اپنی قوت قدسیہ سے پاک کرتے رہیں۔ مگر وہ تو یہی دعا کرتے ہیں کہ رَبَّنَا وَ ابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولًا مِنْهُمْ اے میرے رب ان میں ایک رسول بھیج ۔ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ أَيْتِكَ وہ تیری آیتیں پڑھے نہ کہ پڑھیں وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَبَ وَالْحِكْمَةَ وہ ان کو کتاب اور حکمت سکھائے نہ کہ سکھائیں۔ وَيُزَكِّيهِمْ اور وہ ان کو پاک کرے نہ کہ پاک کریں مگر خود ہی دوسرے موقع پر دعا کے ذریعہ اس امر کا اقرار کر چکے ہیں کہ میری نبوت کافی نہیں ہو سکتی جب تک میری اولاد میں سے بھی انبیاء نہ ہوں اور جب تک نبیوں کا ایک لمبا سلسلہ دنیا میں قائم نہ ہو۔ اس ضرورت کو تسلیم کرتے ہوئے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہ کیوں دعا کی کہ ان میں ایک نبی مبعوث کیجیو۔ یہ ایک سوال ہے جس کو اگر ہم قرآن کریم سے ہی حل نہ کر سکیں تو حضرت ابراہیم علیہ السلام پر خطر ناک الزام آتا ہے کہ انہوں نے ایک ایسی دعا کی جس سے دنیا کو ہدایت کامل نہیں مل سکتی تھی اور دنیا کے لئے نور کا ایک رستہ کھولتے ہوئے انہوں نے اسے معاً بند کر دیا۔ تو کہا جا سکتا تھا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ذہن آگے کی طرف گیا ہی نہیں۔ انہوں نے صرف یہ چاہا کہ میرے بعد ایک نبی آجائے اور آئندہ کے متعلق وہ خود دعا کرتا رہے مگر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دوسری دعا نے بتا دیا کہ ان کے دل میں یہ خیال آیا اور انہوں نے اس کے متعلق دعا بھی کی