خطبات محمود (جلد 21) — Page 261
1940ء 260 خطبات محمود آپ اس کی مذمت کر رہے تھے اور ابھی اس کا اعزاز کرنے لگے۔ آپ نے فرمایا کہ اس کی کیا ضرورت ہے کہ میں اس کے شر کو بے موقع ظاہر ہونے دوں۔ 3 اور اس طرح آپ نے بتایا کہ جب تک کسی کے شر کے اظہار کا وقت نہ آئے اسے خود ظاہر کر کے دشمن بنا لینا ضروری نہیں۔ ممکن ہے وہ ایمان ہی لے آوے۔ آنحضرت صلی الم کا یہ فعل دو وجوہ سے ہی ہو سکتا ہے ایک تو یہ کہ آپؐ نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ ذَالِكَ اس سے ڈرتے تھے کہ یہ مجھے نقصان پہنچائے گا مگر اس قسم کا خیال آپ کے متعلق نہیں کیا جا سکتا اور دوسرے اس وجہ سے کہ پیشتر اس کے کہ اس کا شر ظاہر ہو میں اسے دشمنوں کی صف میں کیوں کھڑا کر لوں اور اصل وجہ یہی ہے۔ یہ دراصل رحمت کی وجہ سے ہے اور آپ نے جو کچھ کیا اس کے یہی معنے تھے کہ اس کے لئے ہدایت کا دروازہ کھلا رہے۔ اور آپ کا یہی طریق مجھے بھی مجبور کرتا ہے کہ اگر مجھے علم ہو تو بھی میں کسی کا نام ظاہر نہ کروں۔ جب تک کہ یا اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ علم ہو ہو جائے کہ ر اب اب اسے ہدایت نہیں ہو گی اور یا پھر وہ خود ظاہر نہ ہو جائے۔ پھر یہ بھی ضروری نہیں کہ مجھے سب کا علم ہو۔ باقی رہا ان کا یہ اعتراض کہ اس سے معلوم ہو ا ہماری جماعت میں منافق ہیں اور ان میں نہیں۔ سو اس کے متعلق یاد رکھنا چاہیے کہ میں فطرتاً منافقوں کی تلاش سے معذور ہوں اور وہ فطرتاً منافقوں کی تلاش میں ماہر ہیں۔ ان میں تجسس اور ٹوہ لگانے کی عادت ہے جو مجھ میں نہیں۔ وہ ہمیشہ اس بات کی ٹوہ میں رہتے ہیں کہ ہم میں سے کمزوروں کا کھوج لگائیں مگر میری طبیعت ایسی ہے کہ میرے پاس ان کے قریب ترین عزیزوں کی چٹھیاں آئیں کہ ہم ان سے بیزار ہیں مگر میں نے ان کو یہی جواب دیا کہ ایمان کو کھیل مت بناؤ۔ ابھی ٹھہرو اور صبر کرو اور خدا تعالیٰ سے دعائیں کرو۔ میری فطرت ہی ایسی نہیں کہ میں ایسے جوڑ توڑ کرتا رہوں کہ ان میں سے کون ان کا مخالف ہے اور کون کمزور ہے مگر وہ فطرتاً مجبور ہیں کہ ایسے لوگوں کی ٹوہ میں رہیں اور ان کو اپنے گردو پیش جمع رکھیں۔ چنانچہ تجربہ اس بات پر گواہ ہے کہ انہوں نے ہمیشہ ان لوگوں کو جو ہماری جماعت سے نکلے اپنے گرد اکٹھا کیا۔ انہوں نے مستریوں کو مد د دی مصریوں کو دی۔ اس پر ان کی جماعت کے ریکارڈ گواہ ہیں گو وہ منہ سے اس کا انکار ہی کرتے ہیں