خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 244 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 244

1940ء 244 خطبات محمود سب اس جگہ اکٹھی ہو کر رو رہی ہیں۔ آپؐ نے فرمایا میرا یہ مطلب تو نہیں تھا میں نے تو محض اپنے غم کا اظہار کیا تھا۔ اس پر ایک صحابی دوڑتے ہوئے ان عورتوں کی طرف گئے اور کہا کہ مت رؤو، رسول کریم صلی الم منع کرتے ہیں۔ وہ اس وقت جوش میں بھری ہوئی تھیں انہوں نے کہا ہم تو روئیں گی یہ سن کر وہ پھر رسول کریم صلی الم کی خدم علی تعلیم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا يَا رَسُولَ اللہ ! وہ تو باز نہیں آتیں۔ اس پر آپ نے فرمایا ڈالو ان کے منہ پر مٹی۔ یہ عرب کا ایک محاورہ ہے اور اس کے معنی یہ ہیں کہ انہیں اپنی حالت پر چھوڑ دو۔ اس وقت وہ جوش کی حالت میں ہیں تھوڑی دیر کے بعد وہ خود ہی خاموش ہو جائیں گی مگر وہ شخص ظاہری الفاظ کا زیادہ پابند تھا اس نے جھولی میں مٹی ڈالی اور جاکر ان عورتوں کے مونہوں پر ڈالنی شروع کر دی۔ حضرت عائشہ کو معلوم ہوا تو آپ سخت ناراض ہوئیں اور فرما یار سول کریم صلی علیم کا یہ مطلب تو نہیں تھا کہ ان کے منہ پر مٹی ڈالنی شروع کر دو۔ آپ کا تو یہ مطلب تھا کہ اب زیادہ کچھ نہ کہو وہ خود ہی خاموش ہو جائیں گے ۔ 11 غرض رسول کریم صلی علیم کے سامنے آپ کے بعض عزیز اور رشتہ دار شہید ہوئے اور بعض کی شہادت کے متعلق تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو قبل از وقت اطلاع بھی دی گئی اور اس وجہ سے کہا جا سکتا ہے کہ آپ نے ان کے لئے ضرور دعائیں کی ہوں گی۔ مگر خدا تعالیٰ کی جو مشیت تھی وہی ہوا۔ اب کیا کوئی بد بخت کہہ سکتا ہے کہ چونکہ رسول کریم صلی الم کی بعض دعائیں قبول نہیں ہوئیں اس لئے آپ کو قبولیت دعا کا منصب حاصل نہ تھا۔ اس بدبخت کو میں کہوں گا کہ اے جاہل اللہ تعالیٰ کا تعلق اپنے بندوں سے دوستوں کا سا ہوتا ہے کبھی وہ ان کی سنتا ہے اور کبھی اپنی منواتا ہے۔ اے جاہل ! تجھے وہ بیسیوں باتیں تو نظر آتی ہیں جن میں خدا تعالیٰ نے اپنی منوائی مگر وہ لاکھوں کروڑوں امور نظر نہیں آتے جن میں محمد رسول اللہ صلی علیم کی دعاؤں کو سن کر خدا نے پورا کیا اور اس کی عبودیت پر اپنے عمل سے مہر لگائی ۔ میں نے جیسا کہ بتایا ہے اس ٹریکٹ میں جو مثالیں پیش کی گئی ہیں ان میں سے اکثر ایسی ہیں جن کے متعلق میں نے کبھی دعا نہیں کی۔ مثلاً لکھا ہے :۔